پاکستان میں سرمایہ کاری اور قومی بچت کی شرحیں اہداف سے کم رہیں، علاقائی ممالک کے مقابلے میں معاشی رفتار سست قرار

جمعہ 15 مئی 2026 14:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) رواں مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں سرمایہ کاری اور قومی بچت کی شرحیں مقررہ اہداف حاصل نہ کرسکیں، جبکہ علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی معاشی کارکردگی بھی نسبتا کمزور رہی ہے۔ذرائع منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق قومی آمدنی کے مقابلے میں مجموعی سرمایہ کاری کی شرح رواں مالی سال میں 14.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو مقررہ ہدف 14.7 فیصد سے کم رہی۔

اسی طرح قومی بچت کی شرح بھی 14.4 فیصد پر برقرار رہی، تاہم یہ شرح بھی ملکی معاشی ضروریات اور ترقیاتی تقاضوں کے مقابلے میں ناکافی تصور کی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں مزید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران سرکاری سرمایہ کاری کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کے 3.1 فیصد تک محدود رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 3.3 فیصد تھی۔

(جاری ہے)

ماہرین کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں کمی اور مالی دبا کے باعث سرکاری سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔دوسری جانب نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں بہتری کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھ کر مجموعی قومی پیداوار کے 9.6 فیصد تک پہنچ گئی، جسے کاروباری سرگرمیوں اور بعض شعبوں میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ اور رواں دونوں مالی سالوں میں 14.4 فیصد پر جمود کا شکار رہی، تاہم قومی بچت کے رجحان میں معمولی بہتری ضرور ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2024-25 میں قومی بچت کی شرح 14.1 فیصد تھی جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 14.4 فیصد ہوگئی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کیلئے سرمایہ کاری اور قومی بچت کی بلند شرح نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں سست روی صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں علاقائی تقابل بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی اوسط شرح نمو 6.5 فیصد، ویتنام کی 6.7 فیصد اور بنگلہ دیش کی 5.4 فیصد رہی، جبکہ پاکستان کی اوسط معاشی شرح نمو صرف 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ماہرین معیشت کے مطابق ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا، برآمدات میں اضافہ، مالیاتی اصلاحات اور قومی بچت کے رجحان کو فروغ دینا ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ معاشی مسابقت میں بہتر مقام حاصل کرسکے۔