انمول پنکی کے انکشافات پر پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

کوکین ڈیلر کے پنجاب کنکشن نے پولیس فائلیں کھلوا دیں، بااثر افسران کے ساتھ روابط بے نقاب، مبینہ رشوت کے عوض ملزمہ کو اشتہاری قرار نہ دینے والے تمام تفتیشی افسران کی بھی شامت آگئی

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 15 مئی 2026 16:26

انمول پنکی کے انکشافات پر پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2026ء) کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے بیانات کے بعد اب پنجاب میں بھی منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی تیاری کرلی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی پولیس کی جانب سے انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد لاہور پولیس نے باقاعدہ رابطہ کرکے ملزمہ کے نیٹ ورک، ڈرگ ڈیلرز کی فہرست اور تحقیقاتی ریکارڈ طلب کرلیا، اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے پنجاب میں سرگرم کئی بڑے ناموں کو بے نقاب کیا، جس کے بعد لاہور سمیت صوبے بھر میں گھیرا تنگ کر دیا گیا۔

تفتیش میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کوئی نئی کھلاڑی نہیں، 2024ء میں لاہور کے نارکوٹکس یونٹ نے اسے گرفتار کیا اور وہ 15 دن تک سی آئی اے کوتوالی میں رہی، ایک ایس پی رینک کے افسر نے خود اس سے تفتیش کی، ایک انسپکٹر رینک کے افسر کے ساتھ ملزمہ کی مبینہ 'قربت' اور مالی معاملات کی وجہ سے اسے مقدمہ درج کیے بغیر ہی رہا کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

ایک سابق پولیس افسر پر بھی الزام ہے کہ اس نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمہ کا کریمنل ریکارڈ بننے نہیں دیا اور مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی ڈیل کے ذریعے اسے تحفظ فراہم کیا، انمول پنکی صرف ڈیلر نہیں بلکہ لاہور کے اشرافیہ میں گہرا اثر و رسوخ رکھتی تھی، ملزمہ لاہور کے مختلف فارم ہاؤسز پر منشیات کی بڑی پارٹیاں منعقد کراتی تھی، جن میں بااثر افراد اور بعض پولیس افسران کی شرکت کا انکشاف ہوا، لاہور میں منشیات کے خلاف ہونے والے حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد ملزمہ نے اپنا بیس کیمپ کراچی منتقل کرلیا، تاہم اس کا نیٹ ورک پنجاب میں بدستور فعال تھا۔

بتایا جارہا ہے کہ لاہور پولیس اب ملزمہ کے بیانات کی روشنی میں ان تمام 'سیاہ بھیڑوں' اور ڈرگ ڈیلرز کی فہرست تیار کر رہی ہے جو اس نیٹ ورک کو سہولت فراہم کر رہے تھے، کراچی پولیس کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے ذریعے ان تمام پولیس افسران کا بھی تعین کیا جا رہا ہے جنہوں نے ماضی میں ملزمہ کو قانون سے بچایا، انمول پنکی کو مبینہ رشوت کے عوض اشتہاری قرار نہ دینے والے تمام تفتیشی افسران کو طلب کرلیا گیا اور ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔