Live Updates

پاکستان بہتر مارکیٹنگ کے ذریعے سیاحت کے شعبے سے اربوں ڈالر کما سکتا ہے. ٹورازم ڈ ویلپمنٹ فاﺅنڈیشن

سیاحت کے لیے ناموافق حالات کے باوجود2025میںایک کروڑ سے زیادہ عالمی سیاحوں نے بھارت کا رخ کیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 15 مئی 2026 16:06

پاکستان بہتر مارکیٹنگ کے ذریعے سیاحت کے شعبے سے اربوں ڈالر کما سکتا ..
سٹاک ہوم/اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 مئی ۔2026 ) پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے یورپ و امریکا میں کام کرنے والی تنظیم ”پاکستان ٹورازم ڈ ویلپمنٹ فاﺅنڈیشن“ نے کہا ہے کہ سیاحت کے لیے ناموافق حالات کے باوجود سال2025میںایک کروڑ سے زیادہ عالمی سیاحوں نے بھارت کا رخ کیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان آنے والے عالمی سیاحوں کی تعداد10لاکھ سے بھی کم رہی ہے.

(جاری ہے)

تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت میں سیاحوں کے ناکافی حفاظتی انتظامات‘بھارتی شہریوں کی جانب سے غیرملکی سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی‘خواتین سیاحوں پر جنسی حملے‘سیاحوں کو لوٹنے کے واقعات کے باوجود بھارت اس شعبے سے سالانہ35ارب ڈالر سے زیادہ کماتا ہے جوکہ بھارتی جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے‘خطے کے دیگر کئی ممالک سری لنکا‘بنگلہ دیش‘نیپال میں بھی عالمی سیاحوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے.

انہوں نے کہاکہ کراچی سے گلگت تک ملک میں سیاحتی مقامات خطے کے کئی ممالک سے زیادہ پرکشش ہیں جبکہ روپے کی قدرکم ہونے کی وجہ سے عالمی سیاحوں کے لیے پاکستان خطے میں سب سے سستا آپشن ہے جبکہ مثالی مہمان نوازی ‘سیکورٹی‘خواتین سیاحوں کے احترام اور مکمل تحفظ کے باوجود اپنے گرد ونواح میں موجود ممالک سے بہت پیچھے ہیں. رپورٹ میں زوردیا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے کی عالمی مارکیٹنگ پر توجہ نہیں دی جارہی ‘دنیا کی بلند ترین چوٹیوں‘گلیشیرز‘خوبصوت وادیوں اور سطح سمندر سے بلند ترین صحرا ‘میدانی علاقوں‘قدیم ترین تہذیبوں کی نشانیوں سمیت ملک کے پاس ہر وہ مقام موجود ہے جسے سیاحت کے لیے اہم قراردیا جاسکتا ہے تاہم عالمی سطح پر مناسب تشہیر کی وجہ سے پاکستان عالمی سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے.

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی سیاحت دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے جس کی وجہ مقامی افراط زر‘کم آمدن‘مقامی کرنسی میں سیاحتی مقامات پر مہنگی رہائش ‘خوراک اور دیگر سہولیات ہیں‘ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان نے سیاحت کے فروغ کے لیے کوششیں کیں تاہم پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے ہرنئے آنے والی حکومت پچھلی حکومتوں کے اچھے منصوبوں کو بھی ختم کردیتی ہے ‘انہوں نے کہا کہ مقامی سیاحت کے فروغ کے لیے سستی ٹرانسپورٹ‘کم کرایہ والی رہائش گاہیں اور سستی ومعیاری خوراک کی فراہمی ضرور ی ہے.

تنظیم کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں خانہ جنگی کا ماحول رہا ہے‘بھارت میں بھی سیکورٹی کے معاملات مثالی نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ان ملکوں کی حکومتیں‘سیاسی جماعتیں اور میڈیا قومی امور پر یکجا ہیں اور مسائل ہونے کے باوجود عالمی ذرائع ابلاغ میں وہ اس طرح شہہ سرخیوں میں نہیں آتے جس طرح پاکستان میں ہونے والی معمولی واقعات عالمی توجہ پاتے ہیں‘انہو ں نے کہا کہ اس میں سب سے زیادہ بڑی ذمہ داری برسراقتدار لوگوں کی ہوتی ہے‘پاکستان ”سارک“ تنظیم کے پلیٹ فارم سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کو بیس سال کے لیے فریزکرکے مشترکہ مفادات پر کام شروع کرئے تو بہت سارے مسائل ازخود حل ہوجائیں گے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ ایران تیل وگیس پائپ لائن‘اور ترکمانستان گیس پائپ لائن ”تاپی“پاکستان‘بھارت‘بنگلہ دیش اور افغانستان کی اہم ترین ضرورت ہیں تاہم تنازعات اور اختلافات کی وجہ سے یہ اہم ترین منصوبے تعطل کا شکار ہیں‘اسی طرح افغانستان میں تیل وگیس کے تسلیم شدہ بڑے ذخائرموجود ہیں جن سے خطے کے ملک استفادہ کرسکتے ہیں جبکہ تجارت وسیاحت سے خطے میں غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے.

تنظیم کا کہنا ہے کہ ”سارک“ممالک یورپ کی طرزپر ایک مشترکہ سیاحتی وتجارتی ویزے کا منصوبہ شروع کریں اور زمینی رابطوں کو بہتر بنایا جائے تو دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد جنوبی ایشیاءکے ممالک کا رخ کرئے گی ‘بنگلہ دیش ‘ویتنام‘میانمار‘ بھارت ‘پاکستان‘ افغانستان اورایران کے درمیان زمینی رابطو ں سے یورپ‘مشرق وسطی‘افریقہ‘روس‘سینٹرل ایشیاءاور چین تک رسائی موجود ہے عمومی طور پر ان ملکوں کے درمیان سٹرکوں اور ریل کے ذریعے رابطے موجود ہیں انہیں صرف اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات