Live Updates

امریکی صدر کا دورہ رسمی تقاریب سے بھرپور‘ فریقوں کے درمیان پالیسی کے حوالے سے بہت کم پیش رفت نظر آئی

بظاہر تجارت پر مرکوز اس سربراہی ملاقات میں ایران کی جنگ حاوی رہی .عالمی ذرائع ابلاغ کی صدرٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے تجزیاتی رپورٹیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 15 مئی 2026 15:56

امریکی صدر کا دورہ رسمی تقاریب سے بھرپور‘ فریقوں کے درمیان پالیسی ..
بیجنگ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 مئی ۔2026 ) امریکی صدر کا یہ دورہ بظاہر رسمی تقاریب سے بھرپور رہا ہے، تاہم اب تک دونوں فریقوں کے درمیان پالیسی کے حوالے سے بہت کم پیش رفت نظر آئی ہے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بظاہر تجارت پر مرکوز اس سربراہی ملاقات میں ایران کی جنگ حاوی رہی یہ بات عالمی ذرائع ابلاغ نے صدرٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے اپنے تجزیاتی رپورٹوں میں کہی ہے .

(جاری ہے)

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ چینی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ بیجنگ تنازع کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام پس پردہ چین کے اتحادی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ چین 200 بوئنگ طیارے اور ممکنہ طور پر امریکی تیل خریدنے پر بات چیت کر رہا ہے توقع ہے کہ دونوں فریق گزشتہ اکتوبر میں بوسان میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی کو جاری رکھنے پر بھی متفق ہوں گے تاہم شاید اس وقت بڑی کامیابی مذاکرات کا ہونا ہی ہے.

چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے” فاکس نیوز “کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے معاملے میں زیادہ صبر نہیں کریں گے امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تجویز دی تھی کہ وہ ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں.

چین کے بیان میں کہا گیا کہ یہ تنازع کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کے جاری رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے تاہم اس بیان میں براہ راست امریکہ پر تنقید سے گریز کیا گیا. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی طور پر اس جنگ نے چینی صنعت پر دباﺅڈالا ہے کیونکہ تیل سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن سفارتی اور سیاسی سطح پر اسے شی جن پنگ کے لیے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں وہ ایک ایسے امریکی صدر کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ کے باعث کمزور ہوا ہے اس کے برعکس صدر شی جن پنگ ایک امن کے حامی رہنما کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ چین نہ صرف عالمی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے بلکہ تیزی سے عالمی طاقت کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے.

چین کی وزارتِ خارجہ نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے حوالے سے کہا کہ اس کا فوری حل تلاش کیا جانا چاہیے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران سے متعلق تنازع کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اور اسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے چینی ترجمان کے مطابق اس تنازع کا جلد از جلد حل تلاش کرنا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے.

واضح رہے کہ چین اس جنگ کو غیرقانونی اور ایران کے خلاف جارحیت قراردیتا آیا ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی باڈی لینگویج اور صدر شی جن پنگ کے بارے میں خوشامدانہ الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کے درمیان کس نوعیت کی گفتگو ہوئی ہوگی‘ان کا کہنا ہے کہ چین کی سفارت کاری دنیا سے مختلف ہے اور واقفیت رکھنے والے چینی قیادت کی میزپر رکھے پھولوں‘ان کے رنگ ‘حتی کہ ان کے بیٹھنے کے اندازتک پر گہرائی سے غور کرتے ہیں.

ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے استقبال اور ریڈکارپٹ بچھانے کو امریکی میڈیا کا ایک مخصوص حصہ کامیابی قراردے رہا ہے تاہم اصل چیز بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی گفتگو ہے جس کا اظہار صدر ٹرمپ کے بدلے ہوئے لہجے اور باڈی لینگویج میں نظرآتا ہے‘اب تک کی صورتحال سے لگتا ہے کہ بیجنگ نے ایرا ن جنگ کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کیا ہے امریکا کے عالمی امورکے مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ چینی راہنما صدرٹرمپ کی طرح ”ٹروتھ سوشل“یا میڈیا بیانات کے ذریعے پیغام نہیں دیتے ان کے نزدیک واشنگٹن کو پیغام چینی سفیر کی نیویارک میں گفتگو کے ذریعے دے دیا گیا تھا. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات