مقبوضہ کشمیر، بھارت امرناتھ یاترا کی آڑ میں پیرا ملٹری کی 670اضافی کمپنیاں تعینات کرے گا

راجوری میں پرتشدد تلاشی آپریشن ساتویں روز بھی جار رہا، ہیلی کاپٹروں ، سراغ رساں کتوں کا استعمال بھارتی فورسز اہلکاروں نے 1989سے اب تک 11ہزارسے زائد کشمیری خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا

ہفتہ 30 مئی 2026 01:20

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی حکومت نے سالانہ ہندو امرناتھ یاترا کی آڑ میں پیرا ملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 670اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقراررکھنے کیلئے پہلے ہی 10لاکھ سے زائدفورسز اہلکار علاقے میں تعینات کرکے اسے دنیا کاسب سے بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ بنا دیا ہے۔

57روزہ ہندو امرناتھ یاترا 3جولائی کو شروع ہوگی جو 28اگست تک جاری رہے گی ۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو یاتریوںکی مقبوضہ وادی میں آمد سے علاقے کے قدرتی ماحول پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بھارتیہ جنتاپارٹی کی ہندو توا بھارتی حکومت ایک طرف ہندو یاتریوں کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے ،جبکہ دوسری طرف اس نے مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارتی انتظامیہ نے اس مرتبہ مسلسل آٹھویں برس کشمیری مسلمانوں کوسرینگرکی عید گاہ اور تاریخی جامع مسجد میں عید الاضحی کی نمازادا نہیں کرنے دی۔ جموں خطے کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کا پر تشدد آپریشن آج مسلسل ساتویں روز بھی جاری رہا۔ضلع کے علاقوں ڈوریمل اور گمبھیر مغلان میں ہونے والے آپریشن میں بھارتی فوجی، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس(سی آر پی ایف) اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کے علاوہ ولیج ڈیفنس گارڑز کے ارکان حصہ لے رہے ہیں۔

آپریشن میں ہیلی کاپٹر ، ڈرون کیمرے اور سراغ رساں کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ضلع شوپیاں میں دو کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے المناک واقعے کو آج 17 برس مکمل ہو گئے، لیکن متاثرہ خاندان تاحال انصاف سے مسلسل محروم ہیں۔ آسیہ اور نیلوفر کو مئی 2009میں شوپیاں میں وردی میں ملبوس ہلکاروں نے اغوا کے بعد عصمت دری کا نشانہ بنایاتھا اور بعد ازاں دونوں کو قتل کر دیاتھا۔

ان کی لاشیں 30 مئی کو ایک نالے سے برآمد ہوئی تھیں۔’’کشمیر میڈیاسروس ‘‘نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 1989سے اب تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے کشمیری خواتین کی عصمت دری، اجتماعی زیادتی اور بدسلوکی کے 11ہزار 270سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح شکار ہیں اور قابض بھارتی فوجی مقبوضہ علاقے میں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں آسیہ اور نیلوفر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شوپیاں سانحہ نے پوری وادی کشمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دلدوز واقعات میں ملوث کسی ایک بھی بھارتی فوجی کو آج تک سزا نہیں دی گئی اور مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ضلع شوپیاں کے علاقے زینا پورہ میں بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اپنے کیمپ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اسے فووی طورپر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیدیا۔