Live Updates

وفاقی بجٹ 2027-2026 کا مجموعی حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ‘خسارے پروزیرخزانہ کی خاموشی

دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر ‘حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ کھرب پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی.بجٹ دستاویزات

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 12 جون 2026 19:25

وفاقی بجٹ 2027-2026 کا مجموعی حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ‘خسارے پروزیرخزانہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جون ۔2026 ) وفاقی بجٹ مالی سال 2027-2026 کا مجموعی حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ جبکہ وفاقی وزیرخزانہ کی جانب سے قومی خسارے کے بارے خاموشی اختیار کی گئی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں وفاقی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے.

(جاری ہے)

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ کھرب پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی پینشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک کھرب 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مالی اہداف اور اخراجات کا خاکہ تیار کیا ہے.

دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 کھرب 26 ارب 40 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے حکومت کو توقع ہے کہ غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں پانچ کھرب 33 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوں گے جبکہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ چار کھرب ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے دفاعی خدمات کے انتظامی امور کے لیے ایک کھرب سات ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں مالی سال 2027-2026 کے دوران سبسڈیز کی مد میں ایک کھرب نو ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے دوسری جانب آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے.

ادھر وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر میں 18 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے جبکہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 17 فیصد زائد ہے. قبل ازیںڈیڑھ گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ”ناراضگی“ سے شروع ہوا ایوان میں اتنا شور ہے کہ وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر کو سننا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے حکومتی اراکین نے ہیڈ فونز لگا رکھے ہیں جبکہ اپوزیشن سپیکر ڈیسک کے سامنے کھڑے احتجاج کر رہے ہیں حکومتی اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی بھی بہت کم تعداد ایوان میں موجود ہے جبکہ ایم کیو ایم کے اہم رہنما بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں عموماً بجٹ اجلاس کے موقع پر اراکین کافی تعداد میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں لیکن ایوان میں اکثر کرسیاں خالی ہیں حکومتی بینچز پر بھی اراکین کی تعداد کم ہے یہاں تک کہ جب وزیر خزانہ نے بجٹ میں دیے گئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا تو اس وقت بھی اپوزیشن نے شور مچایا لیکن حکومتی ڈیسک پر موجود اراکین نے بھی ڈیسک بجانے کے بجائے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کیا.

بجٹ میںوفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ٹارگٹ رکھا ہے واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8اعشاریہ2 فیصد رکھا گیا ہے بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جب کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر رکھا گیا ہے.

رواں مالی سال کے لیے مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اگلے مالی سال کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم کا ہدف 42.4 ارب ڈالر رکھا گیا ہے وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت انفراسٹرکچر، سوشل، گورننس اور دوسرے شعبوں میں ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم مختص کی گئی ہے.

وفاقی بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کے ترقیاتی بجٹ شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3675 ارب روپے مختص کیا گیا ہے وفاقی بجٹ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں مہمند ڈیم کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور داسو ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے.

ملک میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس کے ساتھ ملک میں 23 ہزار 775 گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اگلے مالی سال میں قابل تجدید توانائی شعبے میں پبلک انوسٹمنٹ کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اگلے مالی سال میں وزیر اعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت 120000 نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے. 
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات