شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک

ہلاک ہونے والے خوارج میں عام کارندوں کے علاوہ اس فتنہ نیٹ ورک کو چلانے والے 4 انتہائی مطلوب کمانڈرز بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں؛ آئی ایس پی آر اعلامیہ

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 13 جون 2026 12:21

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، مزید 21 دہشت ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2026ء) شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائیوں می فتنہ الخوارج کے 4 بڑے سرغنہ سمیت مزید 21 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ اور اس کے گردونواح میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک مربوط اور انتہائی کامیاب آپریشن کیا گیا، گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید ترین فائرنگ کے تبادلے میں بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے ہیں۔

فوج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے خوارج میں عام کارندوں کے علاوہ اس فتنہ نیٹ ورک کو چلانے والے 4 انتہائی مطلوب کمانڈرز بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں، جن میں خالد رضا عرف سالار (اہم سرغنہ اور ماسٹر مائنڈ)، مفتون (مطلوب کمانڈر)، موسیٰ (سنگین کارروائیوں کا نگران) اور عمران عرف ایان (قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب دیسی ساختہ بمبار) شامل ہے۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر سے معلوم ہوا ہے کہ تمام ہلاک دہشت گرد پاکستان میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور معصوم شہریوں پر ہونے والے متعدد حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں سرگرم تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھے، فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، دستی بم، بارودی مواد اور راکٹ لانچرز برآمد کیے ہیں، یہ نیٹ ورک مکمل طور پر بھارت کی بیرونی سرپرستی اور فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کر رہا تھا، جسے پاک فوج کے جوانوں نے مٹی میں ملا دیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ان علاقوں میں دہشت گردوں کے مکمل صفائے کے لیے کلیئرنس آپریشن اب بھی پوری قوت کے ساتھ بدستور جاری ہے، قومی انسدادِ دہشت گردی مہم عزمِ استحکام کے تحت یہ کارروائیاں پورے ملک میں جاری ہیں، ریاستِ پاکستان سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل اور حتمی خاتمے تک اور علاقے میں موجود آخری دہشت گرد کے سانس ٹوٹنے تک یہ آپریشنز بغیر کسی وقفے کے جاری رکھے جائیں گے۔