Live Updates

جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آبنائے ہرمز کھلنے کا سبب بنے گا، ایران

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 13 جون 2026 14:00

جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آبنائے ہرمز کھلنے کا سبب بنے گا، ایران
  • جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آبنائے ہرمز کھلنے کا سبب بنے گا، ایران

ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر بن گئے

اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے کامیاب مارکیٹ ڈیبیو کے بعد ایلون مسک دنیا کے پہلے ایسے شخص بن گئے ہیں، جن کی دولت ایک ہزار ارب، یعنی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایک وقت تھا، جب ایک ٹریلین ڈالر کی دولت کا تصور بھی ناقابلِ یقین سمجھا جاتا تھا۔

جمعے سے پہلے یہ ہندسہ صرف چند بڑی معیشتوں کی مجموعی قومی پیداوار، ان کے بھاری قرضوں یا دنیا کی چند بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

مسک کی یہ نئی حیثیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

ٹیکنالوجی کے شعبے کے بڑے ناموں سے لے کر مشہور شخصیات تک، ارب پتیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں کروڑوں لوگ روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

فوربز کے مطابق جمعے کو اسپیس ایکس کے حصص میں اضافے کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت بڑھ کر ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس کا بڑا حصہ کمپنیوں کے شیئرز پر مشتمل ہے۔

فوربز کے مطابق اس وقت دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص لیری پیج ہیں، جن کی دولت تقریباً 294 ارب ڈالر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایلون مسک کی دولت ان سے 706 ارب ڈالر زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسک کے بعد فوربز کی فہرست میں شامل چار بڑے ارب پتیوں لیری پیج، سیرگی برِن، جیف بیزوس اور لیری ایلیسن کی مجموعی دولت تقریباً 1.05 ٹریلین ڈالر بنتی ہے، جو مسک کی دولت کے قریب ہے۔
ایلون مسک کی دولت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ فوربز کے مطابق ان کی دولت گزشتہ سال 342 ارب ڈالر تھی، جبکہ 2024 میں یہ تقریباً 195 ارب ڈالر تھی۔


جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آبنائے ہرمز کھلنے کا سبب بنے گا، ایران

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کرنا بھی شامل ہے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بعد میں شروع کیے جائیں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ امن معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو چکا ہے۔

یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں فریقوں نے اشارہ دیا ہے کہ آئندہ چند روز میں کسی حتمی معاہدے کا اعلان ممکن ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کبھی بھی آج جتنی قریب نہیں تھی۔

‘‘ ان کا اشارہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کی جانب تھا، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم عراقچی نے بعد میں ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک تمام معاملات پر مکمل اتفاق نہیں ہو جاتا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت طے پا گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران پر بددیانتی سے مذاکرات کرنے اور معاہدے کی شرائط کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا تھا لیکن امریکی حکام اب بھی معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پرامید ہیں۔

ایک سینئیر امریکی عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر صبح کے وقت معاہدے کے امکانات 75 فیصد تھے تو اب وہ 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اتفاق رائے ابھی تک سو فیصد نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کا ایک متفقہ مسودہ تیار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امن آج جتنا قریب ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔‘‘

ساتھ ہی شہباز شریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس ممکنہ معاہدے کے بارے میں مسلسل غلط معلومات اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

اگرچہ دونوں فریق معاہدے کے قریب دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کی تفصیلات کے بارے میں شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ابتدائی معاہدے کے بعد مزید 60 روز تک مذاکرات جاری رہیں گے اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق اور افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخائر کو برقرار رکھنے کے معاملے کو حتمی معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک کے اندر ہی کم درجہ افزودگی تک واپس لائے جائیں گے اور انہیں کسی بیرون ملک منتقل نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئیر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کرنے اور بعض دیگر شرائط قبول کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔

اسی طرح ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے میں بھی دونوں فریق مختلف دعوے کر رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو اس وقت تک کوئی مالی فائدہ نہیں ملے گا جب تک وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک متفق ہوں تو معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ میزبانی کے لیے تیار ہے۔ تاہم عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر آن لائن کیے جائیں گے اور یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات