کراچی میں کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کے واقعے میں اہم پیشرفت،پولیس نے کیش وین ڈرائیور اور 2 گارڈز کو حراست میں لے لیا

پیر 15 جون 2026 21:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جون2026ء) کراچی کے علاقے واٹر پمپ کے قریب کیش وین سے 30 کروڑ کی ڈکیتی کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ سینٹرل پولیس نے کیش وین ڈرائیور اور 2 گارڈز کو حراست میں لے لیا، ایس ایس پی کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد واردات میں شامل تھے یا نہیں ان سے تفتیش کررہے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کا ماسٹر مائنڈ چیف کریو واجد تھا جس نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

(جاری ہے)

تفتیشی حکام کے مطابق رقم کیش وین سے ڈبل کیبن گاڑی میں منتقل کروائی گئی جس میں سوار چاروں ملزمان واجد سے رابطے میں تھے، ڈکیتی کے بعد کیش وین کے دروازے باہر سے لاک کردیے گئے۔پولیس حکام نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں ڈرائیور اور 2 گارڈز کے ملوث ہونے کے شواہد ملے، مشتبہ ڈرائیور اور گارڈز کو حراست میں لیا جبکہ مرکزی ملزم واجعد اور دیگر ساتھی شہر سے فرار ہوگئے۔پولیس حکام نے کہا کہ رقم لے جانے والی گاڑی طارق روڈ کے دفتر سے روانہ ہوئی تھی، 20 تھیلوں میں بھاری رقم لے جائی جارہی تھی۔تفتیشی حکام نے کہا کہ جائے واردات کی جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔