نیشنل پریس کلب گورننگ باڈی کے اہم فیصلے، صحافیوں کے ہاؤسنگ اور فلاحی مسائل حل کرانے کا مطالبہ

گورننگ باڈی کے ارکان کا دس سال گزرنے کے باوجود صحافیوں کو ہاؤسنگ کوٹہ نہ ملنے پر شدید تشویش کا اظہار ہاؤسنگ کوٹہ بحالی، زیر التوا پلاٹ الاٹمنٹ مکمل اور نئی عمارت کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات کا اعلان

پیر 15 جون 2026 22:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جون2026ء) نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی گورننگ باڈی کا اجلاس صدر عبدالرزاق سیال کی زیر صدارت منعقد ہوا جبکہ سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ فنانس سیکرٹری عابد عباسی نے مالیاتی رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں صحافیوں کو درپیش ہاؤسنگ مسائل، ہاؤسنگ اسکیموں میں مختص کوٹے، زیر التوا پلاٹوں کی الاٹمنٹ، میڈیا ٹاؤن فیز ٹو، پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر، آئی ٹی این ای کے چیئرمین اور پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کے ارکان کی تعیناتی، صحافیوں کی فلاح و بہبود، ریلوے رعایت، میڈیا اداروں کے ملازمین کے مسائل اور کلب کے آئینی و تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

(جاری ہے)

گورننگ باڈی کے ارکان نے دس سال گزرنے کے باوجود صحافیوں کو ہاؤسنگ کوٹہ نہ ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہاؤسنگ اسکیموں میں درخواست دینے والے صحافیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماضی میں جمع کرائی گئی درخواستوں اور زیر التوا الاٹمنٹس کا شفاف اور میرٹ پر جائزہ لیا جائے تاکہ کسی مستحق صحافی کا حق متاثر نہ ہو۔

اجلاس کے شرکائنے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور سیکرٹری اطلاعات اشفاق خلیل سے مطالبہ کیا کہ زیر التوا پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور تصدیقی عمل دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ صحافی برادری میں پائی جانے والی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ گورننگ باڈی نے صحافیوں کا دو فیصد ہاؤسنگ کوٹہ اور اے پی پی جرنلسٹ ہاؤسنگ کوٹہ فوری بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات، وفاقی وزیر ہاؤسنگ، سیکرٹری ہاؤسنگ، وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر ہاؤسنگ پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کر کے صحافیوں کے مطالبات مؤثر انداز میں پیش کئے جائیں گے۔گورننگ باڈی نے میڈیا ٹاؤن فیز ٹو کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روات، ٹھلیاں اور مری ایکسپریس وے کے اطراف سرکاری اراضی کی دستیابی کے امکانات موجود ہیں، جس کیلئے ضلعی انتظامیہ، پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں سے رابطے کئے جائیں گے۔

اجلاس میں وزارت اطلاعات سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر ملکی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کو بھی ہاؤسنگ اسکیموں میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ بھی صحافتی کوٹے اور متعلقہ سہولیات کے مساوی حق دار ہیں۔گورننگ باڈی نے نیشنل پریس کلب کی موجودہ عمارت کی جگہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ عالمی معیار کی نئی عمارت کی تعمیر کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔

اس سلسلے میں حکومت سے خصوصی گرانٹ کی درخواست کی جائے گی۔ مجوزہ منصوبے میں جدید کانفرنس ہالز، بین الاقوامی میڈیا سہولیات، کمرشل اسپیس اور مستقل آمدنی کے ذرائع شامل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پریس کلب کی اراضی اور ملکیت سے متعلق ضروری دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں جبکہ سروے اور منصوبہ بندی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای میں چیئرمین اور پیمرا کونسل آف کمپلینٹس میں ارکان کی تعیناتی جلد عمل میں لائی جائے تاکہ میڈیا انڈسٹری سے وابستہ صحافیوں اور ورکرز کے مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکے۔گورننگ باڈی نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے مساوی دیگر پریس کلبز کے قیام کی خبروں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ نیشنل پریس کلب کے وقار پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے اعلانات کرنے والے این پی سی ممبران کی رکنیت معطل کر کے انہیں شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں گے۔اجلاس میں گورننگ باڈی کے دو ارکان کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی رائے لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، راولپنڈی ہائی کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سینئر وکلائ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ اس معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔