سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی،ترقی اورخصوصی اقدامات کا اجلاس، پی ایس ڈی پی فنڈز کا جائزہ، غیر منظور شدہ نئی سکیمیں مسترد، جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور

منگل 16 جون 2026 23:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جون2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے تیسرے اور چوتھے بجٹ فالو اپ اجلاس چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں سینیٹر شہادت اعوان، ڈاکٹر افنان اللہ خان، میر دوستین خان دومکی اور سعدیہ عباسی نے شرکت کی۔کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے بجٹ مختصات کا جائزہ لیا اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا۔

پاکستان پوسٹ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تین جاری منصوبوں اور ایس ایس پی بلڈنگ آفس کی تعمیر کے ایک نئے منصوبے کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، جسے رواں مالی سال کے دوران مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1.4 کھرب روپے مالیت کی ترقیاتی سکیمیں تجویز کی گئی تھیں، جن کے مقابلے میں 224.514 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔

اتھارٹی پر تقریباً 2.7 کھرب روپے کی تھرو فارورڈ ذمہ داریاں موجود ہیں۔ اگرچہ 22 نئی سکیمیں تجویز کی گئی تھیں تاہم رواں سال کے پی ایس ڈی پی میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبوں کی لاگت میں سالانہ اوسطاً 6.5 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے منصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی پر زور دیا اور تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے این ایچ اے کو این-50 شاہراہ کے کچلاک۔ژوب سیکشن کی دو رویہ تعمیر تیز کرنے کی ہدایت بھی کی جبکہ حیدرآباد۔سکھر موٹروے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔این ایچ اے حکام نے مزید بتایا کہ ادارہ اپنے 71 جاری منصوبوں میں سے 21 کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو 3.7 کھرب روپے کے ترقیاتی قرضے قابل ادائیگی ہیں جبکہ منظور شدہ فنڈز میں کٹوتیوں سے منصوبوں پر عملدرآمد متاثر ہو رہا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ اس کے دو جاری ترقیاتی منصوبے رواں مالی سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وزارت بحری امور نے آگاہ کیا کہ گزشتہ سال سے منتقل شدہ چھ منصوبوں میں سے ایک مکمل ہو چکا ہے جبکہ چار منصوبے جاری رہیں گے۔ وزارت قانون و انصاف نے بتایا کہ اس کے 15 جاری منصوبوں میں سے 11 رواں مالی سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔

قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن نے بتایا کہ گزشتہ سال کے نو منصوبے ابھی تک جاری ہیں۔ حکام نے زرعی تحقیق کے فروغ اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تنظیم نو کی ضرورت پر زور دیا۔ریلوے ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اسے بھاری تھرو فارورڈ بوجھ کا سامنا ہے اور مطلوبہ فنڈز کے مقابلے میں صرف 9 فیصد مختص کئے گئے ہیں۔

چیئرپرسن نے تھر کے منصوبوں کے لیے کم فنڈز مختص کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام شعبوں میں متوازن ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ ڈویژن نے بتایا کہ رواں سال 10 منصوبے مکمل ہوں گے جبکہ 12 منصوبے جاری رہیں گے۔ چیئرپرسن نے نئی مالی ذمہ داریاں پیدا کرنے کے بجائے موجودہ منصوبوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت اس کے 137 جاری منصوبے ہیں اورجن کیلئے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر ای اسپورٹس ایرینا کے قیام کی ایک غیر منظور شدہ مجوزہ اسکیم مسترد کر دی اور حکومت کی اس پالیسی کا اعادہ کیا کہ موجودہ پی ایس ڈی پی میں نئی اسکیموں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی نے بیرون ملک وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ نادہندہ اسکالرشپ ہولڈرز کے خلاف ریکوری کارروائیاں جاری ہیں اور ضرورت پڑنے پر قانونی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے اپنے تین جاری منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بتایا کہ وہ چار جاری منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور ایک نیا منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ اس کے پاس ایک جاری ترقیاتی منصوبہ موجود ہے۔

پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت 48 منصوبے جاری ہیں۔ 98 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں 83.823 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں۔ اجلاس میں وسطی ایشیائی توانائی رابطہ منصوبے کے تحت تاجکستان اور پاکستان کو ملانے والے 500 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن سسٹم پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ افغانستان میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث منصوبے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

چیئرپرسن نے بجلی کے بلوں کے موجودہ نظام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین غیر ادا کنندگان کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ریونیو ڈویژن نے اپنے جاری ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ مختصات کی تفصیلات پیش کیں۔ نجکاری ڈویژن نے بتایا کہ اس کا ایک جاری منصوبہ وفاقی اداروں کی پالیسی پروگراموں کی تیاری کی استعداد بڑھانے کے لیے جاری ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ ضرورت کے مطابق ڈویژن کو زیر التوا فنڈز جاری کئے جائیں۔سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن نے بتایا کہ اس کے 23 منصوبے جاری ہیں۔ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق نئی اسکیموں کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا اور جاری منصوبوں کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔سپارکو نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ چھ جاری منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک چھ سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا چکے ہیں جبکہ دو پاکستانی خلا باز اس وقت چین میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ رواں سال ایک خلائی مشن میں حصہ لیں گے۔

سپارکو نے مزید بتایا کہ دو مجوزہ منصوبوں کے پی سی-1 دستاویزات جلد پلاننگ ڈویژن کو ارسال کیے جائیں گے۔وزارت آبی وسائل نے آبی اور پن بجلی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جاری منصوبوں کی تعداد 45 سے کم کرکے 43 کر دی گئی ہے۔ ڈویژن نے داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سمیت اہم قومی منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تخمینی لاگت تقریباً 1.2 کھرب روپے ہے۔

وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کے حکام نے بھی ہوسٹنگ کمیونٹی سپورٹ پروگرام پر عملدرآمد کی صورتحال سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔اجلاسوں کے اختتام پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جولائی 2026 میں قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ ڈویژن اور ریلوے ڈویژن کے ساتھ الگ فالو اپ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ ان کے ترقیاتی منصوبوں اور مالی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔