اٹھارویں آئینی ترمیم کے ثمرات عوام تک نہ پہنچ سکے، اے این پی کا وائٹ پیپر جاری

بدھ 17 جون 2026 22:40

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جون2026ء) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے سولہ سال مکمل ہونے پر ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ 2010 میں منظور ہونے والی اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کی وفاقی سیاست کی ایک تاریخی کامیابی تھی، تاہم سولہ برس گزرنے کے باوجود اس کے حقیقی ثمرات عوام تک منتقل نہیں ہو سکے۔

"اٹھارویں آئینی ترمیم کے سولہ سال: اختیارات کی منتقلی، عدم توازن اور نچلی سطح کی جمہوریت کا بحران" کے عنوان سے جاری کردہ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ صوبائی خودمختاری اور مضبوط وفاق کے لیے جدوجہد کی۔ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور متعدد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی نے وفاقی نظام کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن موجودہ صورتحال میں وفاق صوبائی خودمختاری کو محدود کرنے اور مالیاتی اختیارات واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

(جاری ہے)

وائٹ پیپر کے مطابق آئینی روح کے منافی ختم کی جانے والی بعض وفاقی وزارتوں کو مختلف ناموں سے دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبے سمیت بااثر طبقوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے صوبوں پر مالیاتی سرپلس کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاحی پروگرام متاثر ہو رہے ہیں۔

اے این پی نے صوبائی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل اور اختیارات صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ وائٹ پیپر میں نشاندہی کی گئی کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے پر مسلسل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں بار بار تحلیل کر کے اختیارات بیوروکریسی کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

پارٹی کے مطابق صوبائی حکومتیں اپنے داخلی محصولات میں اضافے میں بھی ناکام رہی ہیں اور اب بھی وفاقی وسائل پر انحصار کر رہی ہیں۔ وائٹ پیپر میں واضح کیا گیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے 57.5 فیصد حصے میں کسی بھی قسم کی کمی یا اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت منتقل اختیارات کو دوبارہ مرکز کے ماتحت لانے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 140 اے میں فوری آئینی ترامیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کی مدت، بروقت انتخابات اور اضلاع و دیہات کو براہ راست مالی خودمختاری کی آئینی ضمانت دی جائے۔ وائٹ پیپر میں زور دیا گیا کہ صوبائی خودمختاری کی حقیقی روح اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اختیارات اور وسائل گلی، محلے، یونین کونسل اور گاؤں کی سطح تک منتقل کیے جائیں۔پارٹی کا کہنا ہے کہ جس طرح اٹھارویں آئینی ترمیم نے 2010 میں وفاقی سیاسی اتفاق رائے کو مضبوط کیا تھا، اسی طرح آج بھی وفاق کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ صوبے اپنے شہریوں پر اعتماد کرتے ہوئے مقامی سطح پر اختیارات اور وسائل کی منتقلی کو یقینی بنائیں۔