بھارت کشمیری خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہا ہے، عالمی برادری نوٹس لے، حریت کانفرنس آزاد کشمیر

بدھ 24 جون 2026 17:44

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جون2026ء) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں خواتین بڑے پیمانے پر بھارتی فورسز کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور قابض فوج کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کےلئے ان کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں شمیم شال ، سید اعجاز رحمانی اور زاہد اشرف نے اسلام آباد سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 23مارچ کو دنیا میں بیوائوں کا عالمی دن منایا گیا ، ایسے میں پوری عالمی برادری کےلئے یہ چشم کشا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک 22ہزار 9سو91 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی فورسز کے اہلکارں نے شہید کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ علاقے میں 3ہزار سے زائد نیم بیوائیں موجود ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی فوجیوں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قبضے میں کشمیری خواتین مسلسل خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ہزاروں کشمیری خواتین اپنے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوں کو کھو چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی ستم رسیدہ خواتین کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہیے اور ان کے تحفظ و حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔

حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنمائوں نے کہا کہ کشمیری صرف اور صرف اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی پاداش میں بھارت انہیں تختہ مشق بنا رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی طرف انسانیت کے خلاف جاری سنگین جرائم کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت دلانے کےلئے کردار ادا کرے۔