Live Updates

امریکی ثالثی میں ہونیوالے معاہدے سے لبنانی علاقے اسرائیل میں ضم ہونیکاخدشہ

یہ معاہدہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے،حزب اللہ نے مستردکردیا

اتوار 28 جون 2026 16:00

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جون2026ء) حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ مسترد کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا امریکی ثالثی میں طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان کی خود مختاری کے خلاف ہے۔ یہ معاہدہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے وہ دن دور نہیں جب لبنانی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کردیا جائیگا، لبنان سے اسرائیلی انخلا کو مزاحمتی گروپوں کو غیرمسلح کرنے سے مشروط کرنا خطرناک ہے، سہہ فریقی فریم ورک معاہدہ لبنانیوں کیلئیملکی خودمختاری سے دستبردار ہونا ہے۔سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد سہہ فریقی فریم ورک معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، اس معاہدے کے بجائے ایران امریکا ڈیل کے تحت ہوئے معاہدے پر عمل ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ساتھ ہی واضح کردیا کہ ہم نے مشکل ترین حالات میں میدان نہیں چھوڑا اور نہ چھوڑیں گے، حزب اللہ لبنان سے اسرائیلی فوجی انخلا تک مزاحمت جاری رکھے گا۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل اپنے شہریوں کو درپیش خطرات کے خاتمے تک اپنی فوج لبنان میں ہی رکھ سکے گا۔لبنان اور اسرائیل نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا ۔اس معاہدے کے ہوتے ہی لبنان کے مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے، بیروت سمیت کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات