لله*ہاشم خان نورزی اور دہشت میں مہمان کا بہمانہ قتل بلوچستان میں جنگل کے قانون کا مظہر ہے، دائود شاہ کاکڑ

اتوار 28 جون 2026 19:55

ی*کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جون2026ء) ہاشم خان نورزی اور دہشت میں مہمان کا بہمانہ قتل بلوچستان میں جنگل کے قانون کا مظہر ہے ہاشم خان نورزئی شہید اور دہشت واقعے کی مزمت اور ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے نااہل بلوچستان حکومت فوری طور پر استعفی دیکر عوام کو جینے دیں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی صدر دائود شاہ کاکڑ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہاشم خان نورزئی نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے مثالی اور شاندار ہوٹل کابل جان ہوٹل کی بنیاد رکھی جو دن دوگنی رات چوگنی کامیابی کی راہ پر گامزان ھے جو نہ صرف ہاں کے عوام کو پرلطف و لزیز کھانے ، بہترین ماحول دیں رہا ھے بلکہ سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا وسئلہ بھی ھے لیکن ہاشم خان نورزئی کو دن دہاڑے اربوں روپے کے سیف سٹی کیمروں ، سینکڑوں چیک پوسٹوں ، پولیس گشتوں اور چیکنگ کے باوجود شہید کرکے قاتل اسانی سے فرار ہو گئے ہیں دہشت میں بیگناہ انسانوں پر فائرنگ کرکے قتل و زخمی کردیا گیا جو بلوچستان حکومت اور سیکورٹی اداروں کے ناکامی کی عکاس ھے انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہاشم نورزئی کی شہادت اور دہشت واقعہ اس بات کا ثبوت ھے کہ بلوچستان حکومت کی ترجیحی عوام کی حفاظت اور امان وامان نہیں بلکہ اقتدار ، کرپشن اور نااہلی ھے بلوچستان میں ائے روز قتل و غارت ، بدامنی اور دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ھے لیکن حکومت خواب خرگوش میں سو رہی ھے بیان میں مزید کہا گیا کہ معروف تاجر ہاشم خان نورزی شہادت اور دہشت واقعے بلوچستان میں تجارت ، تاجر اور سیاحات کے قتل کے مترادف ھے ہاشم خان نورزئی شہید اور دہشت واقعے کی مزمت اور ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے نااہل بلوچستان حکومت فوری طور پر استعفی دیکر عوام کو جینے دیں