اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستیں نمٹا دیں

پیر 29 جون 2026 22:44

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جون2026ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پائونڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ کرانے سے متعلق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹا دیں جبکہ سزا کے خلاف دائر اپیلوں میں حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے درخواست گزار وکلاء کی استدعا پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلاء پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر جاوید ارشد، رافع مقصود اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک عدالت میں موجود تھے۔

(جاری ہے)

بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے متعلق وکالت نامے تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل حکام کو باقی وکالت نامے بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے موقف اختیار کیا کہ وکالت ناموں پر 16 جون کو ہی دستخط ہو چکے تھے اور گزشتہ سماعت میں عدالت کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے جیل حکام اور وکلاء کے درمیان ہونے والے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے۔

عدالت نے توہین عدالت کی درخواستیں غیر موثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیں اور سزا کے خلاف اپیلوں پر دلائل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر درخواست گزار دلائل نہیں دیتے تو عدالت نیب کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت دے گی کیونکہ عدالت کے پاس مزید انتظار کا کوئی جواز نہیں۔بعد ازاں بیرسٹر گوہر علی خان اور سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے دو ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا کی تاکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے بعد اپیلوں پر تیاری مکمل کی جا سکے۔ عدالت نے سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کو عدالتی حکم کا حصہ بناتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔