Live Updates

)خاران۔بسیمہ روڈ قومی و اسٹریٹجک منصوبہ، پی سی ون کی فوری منظوری دے کر تعمیر کا آغاز کیا جائے، عبدالقادر بلوچ

۳خاران۔بسیمہ شاہراہ سے کراچی تا تفتان 470 کلومیٹر اور 7 گھنٹے کی بچت ممکن، حکومت سے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ بلوچستان کی ترقی کے بغیر قومی ترقی ادھوری، خاران۔بسیمہ روڈ علاقائی تجارت اور ریکوڈک سمیت اہم منصوبوں کے لیے ناگزیر ہے، سابق وفاقی وزیر

منگل 30 جون 2026 20:20

ًکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 جون2026ء) سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ خاران بسیمہ روڈ گوادر، تفتان، ایران، ریکوڈک ، سیندک ، خاران اور واشک کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا قومی منصوبہ ہے جوکہ صرف 100 کلو میٹر فیزبیلٹی کی سطح پر رکا ہوا ہے اس کی تعمیر کیلئے پی سی ون منظور نہیں کیا گیا ہے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کی منظوری دی جائے جس سے کراچی ، آرمبو، نال، بسیمہ، خاران ، یک مچ ، نوکنڈی، تفتان کا مجموعی فاصلہ تقریباً 850 کلو میٹر رہ جائے گا اور 470 کلو میٹر کی بچت ہوگی اور سفر کا دورانیہ تقریباً 7 گھنٹے کم ہوجائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی اس وقت ہی حقیقی معنوں میں قومی ترقی کہلائے گی جب اس کے ثمرات ملک کے ہر حصے خصوصاً بلوچستان تک یکساں طور پر پہنچیں۔

(جاری ہے)

ایم 12 سیالکوٹ ، کھاریاں موٹروے پر تقریباً 82 ارب روپے جبکہ ایم 13 کھاریاں ، راولپنڈی موٹر وے پر 205 ارب روپے کی لاگت متوقع ہے ان دونوں منصوبوں پر تقریباً 287 ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیںلیکن اس کے برعکس خاران، بسیمہ روڈ جو مغربی بلوچستان، گوادر تفتان، ایران ، ریکوڈک ، سیندک ، خاران اور واشک کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا قومی منصوبہ ہے اور صرف 100 کلو میٹر آج بھی صرف فیزیبلٹی کی سطح پر رکا ہوا ہے اور اس کی تعمیر کیلئے ابھی تک پی سی ون بھی منظور نہیں کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ صرف چاغی، خاران یا واشک کے عوام کا مطالبہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، علاقائی تجارت، معدنی وسائل، گوادر پورٹ، ایران کے ساتھ تجارتی روابط، وسطی ایشیاء تک رسائی اور قومی سلامتی سے براہ راست متعلق ہے ۔ بلوچستان ملک کا اہم صوبہ ہونے کے باوجود یہاں قومی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ۔انہوں نے کہا کہ خاران ، بسیمہ روڈ 100 کلو میٹر بلوچستان کا محض ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کا ایک اہم قومی اور اسٹرٹیجک اقتصادی راہداری منصوبہ ہے افسوس ہے کہ اس منصوبے کی فیزیبلٹی (پی سی ٹو )24 دسمبر 2020ء کو منظور ہونے کے باوجود پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تعمیراتی مرحلہ پی سی ون شروع نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کراچی سے تفتان جانا ہو تو راستہ یہ بنتا ہے۔ کراچی، خضدار، کوئٹہ، تفتان جا کا فاصلہ تقریباً 1,329 کلو میٹر ہے اور سفر میں 17 سے 19 گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر خاران بسیمہ روڈ تعمیر ہوجائے تو ایک نئی مغربی قومی شاہراہ وجود میں آئے گی۔ کراچی آرمبو، نال، بسیمہ، خاران، یک مچ، نوکنڈی، تفتان اس راستے سے مجموعی فاصلہ تقریباً 850 کلو میٹر رہ جائے گا یعنی تقریباً 470 کلو میٹر کی بچت ہوگی اور سفر کا دورانیہ تقریباً 7 گھنٹے کم ہوجائے گا۔

اسی طرح گوادر پورٹ سے ایران اور تفتان جانے والی ٹریفک گوادر، بسیمہ، خاران، یک مچ، نوکنڈی، تفتان جس سے موجودہ راستے کے مقابلے میں تقریباً 300 سے 350 کلو میٹر اور 4 سے 5 گھنٹے بچت ہوگی۔ میں وزیرا عظم پاکستان ، وفاقی وزیر مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، پلاننگ کمیشن اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل سے مطالبہ کرتا ہوں کہ خاران، بسیمہ روڈ کی فیزیبلٹی فوری مکمل کرکے پی سی ون کی منظوری دیکر فوری طور پر اس منصوبے کے لئے خاطر کواہ فنڈز مختص کرکے تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے۔ ملک کی قومی ترقی کے ثمرات بلوچستان کی ترقی پر خرچ کئے جائیں
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات