عمر خالد کا مودی سے اختلاف رائے، بھارتی نوجوان کا مستقبل جیل کی نذر ہونے پر سنگین سوالات

جمعرات 2 جولائی 2026 17:53

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جولائی2026ء) نوجوان بھارتی طالب علم عمر خالد کا مودی سے اختلاف رائے کے نتیجہ میں مستقبل جیل کی نذر ہونے پر سنگین سوالات اٹھ گئے، نوجوان بھارتی طالب علم عمر خالد کا مستقبل مودی حکومت کے سخت ریاستی اقدامات اور الزامات کی زد میں آ گیا۔ عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق 2019 میں ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران نوجوان عمر خالد مودی حکومت کیلئے پہلا بڑا چیلنج تھا ، ستمبر 2020 میں مودی حکومت نے نوجوان طالب علم عمر خالد کو دہشت گرد قرار دے کر جیل بھیج دیا۔

دی گارڈین کے مطابق بھارتی حکومت نے عمر خالد پر دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات اور حکومت کی تبدیلی کی سازش کا الزام عائد کیا، مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا عمرخالد کو نفرت انگیز انداز میں مسلمان دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دیتا ہے۔

(جاری ہے)

دی گارڈین کے مطابق عمر خالد نے مودی حکومت کے خلاف 20 کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہراسانی اور امتیازی سلوک پر آواز اٹھائی تھی۔

سینئر کانگریس رہنما راشد علوی نے بھی بغیر ٹرائل اور ضمانت کے عمرخالد کی طویل قید کو بھارت کی بدنامی قرار دیا۔ دی گارڈین کے مطابق عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عمرخالد کی بغیر ٹرائل تقریباً 6 سالہ قید کوغیر منصفانہ قراردے کر سخت تنقید کی، نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے بھی جبری قید پرعمرخالد کو اظہار یکجہتی کیلئے خود پیغام لکھ کربھیجا۔بھارتی ریسرچر ڈاکٹر بنوجیوتسنا لاہری کے مطابق کسی شخص کو بغیر مقدمے کے قید رکھنا انسانی آزادی اور وقار کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔