سوات، سیف اللہ جھیل کشتی حادثہ، 6افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، ایک خاتون تاحال لاپتہ، کشتی آپریٹر کے خلاف مقدمہ درج

جمعرات 2 جولائی 2026 20:43

سوات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) سوات کی وادی کالام سے تقریبا 34 کلومیٹر دور واقع سیف اللہ جھیل میں گزشتہ شام پیش آنے والے افسوسناک کشتی حادثے میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے نیوی کے ریٹائرڈ ایئر کمانڈر محمد عامر کے خاندان کے سات افراد جھیل میں ڈوب گئے، جن میں سے چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک خاتون تاحال لاپتہ ہے۔

لاپتہ خاتون کی تلاش کے لیے پولیس، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل ٹیمیں مسلسل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ ایس پی اپر سوات شوکت علی خان کے مطابق جنریٹر سے چلنے والی کشتی میں ایک ہی خاندان کے سات افراد سوار تھے۔ دوران سفر کشتی کا جنریٹر بند ہو گیا، جس کے بعد کشتی بے قابو ہو کر جھیل کے تیز بہا میں چلی گئی اور الٹ گئی۔

(جاری ہے)

کشتی آپریٹر لیاقت علی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا، تاہم محمد عامر کے خاندان کے تمام افراد پانی میں ڈوب گئے۔ریسکیو ٹیموں نے اب تک چھ افراد کی لاشیں نکال لی ہیں، جن میں ریٹائرڈ ایئر کمانڈر محمد عامر ولد عبیداللہ، ان کے 19 سالہ بیٹے عبداللہ، 23 سالہ بیٹی روبیل، 29 سالہ بیٹی فروا، تین سالہ نواسی زہرا اور دو سالہ نواسا رائد شامل ہیں۔

ضروری قانونی کارروائی کے بعد میتیں ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقے روانہ کر دی گئی ہیں۔ ایس پی اپر سوات شوکت علی خان نے بتایا کہ حادثے میں محمد عامر کی 17 سالہ بیٹی بشری بی بی تاحال لاپتہ ہے، جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ ریسکیو اہلکار جھیل اور اطراف کے علاقوں میں جدید آلات اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعید الرحمن کے مطابق سیف اللہ جھیل پر کشتی رانی کے لیے حفاظتی ایس او پیز موجود ہیں، تاہم ان پر مثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

کالام پولیس نے محمد عامر کے بھتیجے کی مدعیت میں کشتی آپریٹر لیاقت علی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ادھر سرچ آپریشن کے باعث سیف اللہ جھیل میں کشتی رانی عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم کالام آنے والے سیاح مہوڈنڈ جھیل اور دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ سیاحوں اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ سیف اللہ جھیل اور مہوڈنڈجھیل پر لائف جیکٹس کے لازمی استعمال، کشتیوں کی فٹنس، مقررہ تعداد سے زائد مسافروں کی ممانعت اور دیگر حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کا مزید نقصان نہ ہو۔