شہید ارشد شریف کیس میں انصاف نہ مل سکا، کینیا کی سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کردی

صحافی کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتے، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا، دستیاب شواہد کی بنیاد پر قتل سے پہلے تشدد یا ٹارچر ثابت نہیں ہو سکا، سپریم کورٹ آف کینیا

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 3 جولائی 2026 16:56

شہید ارشد شریف کیس میں انصاف نہ مل سکا، کینیا کی سپریم کورٹ نے اپیل ..
کینیا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جولائی2026ء)   ارشد شریف کیس میں انصاف تاحال نہ مل سکا، کینیا سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کردی ، سپریم کورٹ آف کینیا نےارشد شریف قتل کیس کا اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ارشد شریف کا قتل ان کے زندہ رہنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صحافی کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے وہ براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتی۔

عدالت کے مطابق ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر قتل سے پہلے تشدد یا ٹارچر ثابت نہیں ہو سکا۔ اس فیصلے پر شہید ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے افسوس کا اظہار کیا ہے، ایکس پر اپنے بیان میں ان کہنا ہے کہ آج ایک اور غم کا دن ہے۔

(جاری ہے)

کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد کے کیس میں اپیل مسترد کر دی ہے۔

کینیا کی ہائی کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی تھی کہ یہ ایک غیر قانونی قتل تھا اور ان کے حقِ زندگی کی خلاف ورزی تھی۔ لیکن آج بھی صورتحال یہ ہے کہ نہ کوئی گرفتاری ہوئی، نہ تحقیقات مکمل ہو سکیں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔ میں یہ سب پہلے پاکستان میں دیکھ چکی ہوں اور اب کینیا میں بھی دیکھ رہی ہوں۔ جب پولیس اور عدلیہ مکمل طور پر آزاد نہ ہوں، جب نہ کوئی گرفتار ہو اور نہ تحقیقات اپنے انجام تک پہنچیں، تو ناانصافی معمول بن جاتی ہے۔

ارشد پاکستان اس لیے چھوڑ کر گئے تھے کیونکہ وہ وہاں محفوظ نہیں تھے۔ وہ پناہ لینے کے لیے کینیا آئے تھے۔ 
23 اکتوبر 2022 کو انہیں کینیا کی مگاڈی روڈ پر جی ایس یو اہلکاروں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ ہائی کورٹ نے اسے غیر قانونی قتل قرار دیا۔ چار سال بعد کینیا کی سپریم کورٹ نے بھی یہ تصدیق کر دی کہ ارشد شریف کا قتل کینیا پولیس کے ہاتھوں حقِ زندگی کی غیر قانونی خلاف ورزی تھا۔

لیکن عدالت نے نہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا، نہ معافی مانگنے کا، اور نہ ہی اسے تشدد قرار دیا۔ ہمارے پاس عدالت کا فیصلہ تو موجود ہے، لیکن انصاف نہیں۔ میں تھک چکی ہوں، لیکن ارشد کے لیے سچ اور انصاف کی تلاش ہر ممکن طریقے سے جاری رکھوں گی۔ اب ایک بار پھر یہ کیس کینیا کی کورٹ آف اپیل میں پہنچ گیا ہے۔