ڈونلڈ ٹرمپ کے کرپٹو پروجیکٹ اور پاکستان میں اربوں ڈالرز کا معاہدہ

بلال بن ثاقب دونوں فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہیں؛ بھارتی ویب سائٹ OpIndia کی رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 12:48

ڈونلڈ ٹرمپ کے کرپٹو پروجیکٹ اور پاکستان میں اربوں ڈالرز کا معاہدہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرپٹو پروجیکٹ اور پاکستان میں اربوں ڈالرز کا معاہدہ ہوا، امریکی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل (WLF) کے سابق مشیر اور پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔ بھارتی خبر رساں ویب سائٹ OpIndia کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی نژاد پاکستانی کاروباری شخصیت بلال بن ثاقب، جو پاکستان کے کرپٹو کرنسی ریگولیٹر کے چیئرمین بننے سے قبل ورلڈ لبرٹی فنانشل (WLF) کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے تھے، دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد میں شامل رہے، وہ پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بھی ہیں، جبکہ اس سے قبل انہیں وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو کرنسی مقرر کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلال بن ثاقب، جو اس سے قبل نسبتاً کم معروف تھے، بعد ازاں پاکستان کی اہم شخصیات میں شمار ہونے لگے، وہ پاکستانی وفود کے ہمراہ امریکہ کے دوروں میں بھی شریک رہے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مار اے لاگو کلب میں بھی دیکھا گیا، انہوں نے کرپٹو کرنسی کے شعبے کی نمایاں شخصیات، جن میں بائنانس کے شریک بانی چانگ پینگ ژاؤ (سی زیڈ) بھی شامل ہیں، ان سے روابط استوار کیے۔

رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بلال بن ثاقب نے گزشتہ سال مئی میں لاس ویگاس میں منعقدہ بٹ کوائن کانفرنس میں کرپٹو کرنسی کے شعبے میں پاکستان کی پیشرفت پر اظہارِ خیال کیا، اس تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ایرک ٹرمپ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی شرکت کی، بعد ازاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اُس وقت صدر کی کونسل آف ایڈوائزرز آن ڈیجیٹل ایسیٹس کے ڈائریکٹر بو ہائنز سے بھی ملاقات کی۔ OpIndia نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ بلال بن ثاقب کے تیزی سے نمایاں ہونے کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، ان کے اس عروج کی وجوہات پر عوامی سطح پر زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جبکہ بلال بن ثاقب نے بھی اس حوالے سے کوئی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی ہیں۔