جان لیوا ایل نینو کے اثرات، یورپ میں گرمی سے ہلاک افراد کی تعداد 3700ہوگئی

آئندہ چند ماہ کے دوران ایل نینو سسٹم دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے. موسمیاتی ایجنسی اقوام متحدہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 5 جولائی 2026 17:29

جان لیوا ایل نینو کے اثرات، یورپ میں گرمی سے ہلاک افراد کی تعداد 3700ہوگئی
برسلز(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جولائی ۔2026 ) یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچا دی، مختلف ممالک میں گرمی سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر 3 ہزار 700 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایل نینو سسٹم دوبارہ فعال ہونے سے عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں فرانس میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں شدید گرمی کے باعث 2 ہزار 25 افراد ہلاک ہوگئے بیلجیئم میں گرمی سے 1 ہزار 200 جبکہ نیدرلینڈز میں 480 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں اس کے علاوہ اسپین میں بھی شدید گرمی کے باعث سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم وہاں ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آئی. ماہرین کے مطابق یورپ میں حالیہ ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، متعدد علاقوں میں درجہ حرارت کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ گیا، جس کے باعث بزرگ افراد، بچے اور پہلے سے بیمار شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے دوسری جانب اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایل نینو سسٹم دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے.

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حدت میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آسکتی ہیں، جس سے انسانی جانوں، زراعت، پانی کے ذخائر اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے. دوسری جانب یونان کے جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ نے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث قریبی آبادیوں سے شہریوں کا انخلا جاری ہے حکام کے مطابق تیز ہواﺅں کے باوجودفائرفائٹرزآگ پرقابو پانے کےلئے مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں.

فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لئے 74 فائرفائٹرز، 28 فائر انجنز اور متعدد رضاکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فضائی اور زمینی وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں حکام کے مطابق آتشزدگی کے باعث کئی عمارتوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم نقصان کا مکمل تخمینہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا ریسکیو حکام نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ آگ پر مکمل قابو پانے کی کوششیں بدستور جاری ہیں.