گلگت بلتستان، سپریم اپیلیٹ کورٹ کا فدا محمد ناشاد کیخلاف الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار،چیف الیکشن کمشنر کو قانونی کارروائی کی ہدایت

جمعرات 9 جولائی 2026 20:15

گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2026ء) سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج سردار محمد شمیم خان نے جی بی اے 9 سکردو تھری سے امیدوار فدا محمد ناشاد کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نااہلی بحال کر دی۔ الیکشن ٹریبونل نے فدا محمد ناشاد کو اثاثے چھپانے کے جرم میں نااہل قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں چیف کورٹ گلگت بلتستان کا 25 مئی 2026 کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا، جس کے تحت الیکشن اپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے فدا محمد ناشاد کی نااہلی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری برقرار رکھی گئی تھی۔سپریم اپیلیٹ کورٹ نے ریکارڈ اور ریونیو دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ فدا محمد ناشاد نے 20 اپریل 2026 کو ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کرائے گئے اپنے کاغذات نامزدگی میں صرف دو جائیدادوں، مشابرم ہوٹل میں ایک پانچواں حصہ اور ہاس لینڈ، کا ذکر کیا، جبکہ وہ موضع جوٹیال گلگت، موضع اولڈنگ اسکردو، موضع تھوار اور دمبوداس روندو میں واقع قیمتی اراضی اور جائیدادوں کے بھی مالک تھے، جنہیں انہوں نے ظاہر نہیں کیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن اپیلیٹ ٹریبونل نے قانون کے مطابق فدا محمد ناشاد کو اثاثے چھپانے، غلط بیانی کرنے اور الیکشن ایکٹ کی لازمی دفعات کی خلاف ورزی پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت صادق و امین نہ ہونے کی بنیاد پر درست طور پر نااہل قرار دیا تھا، جبکہ چیف کورٹ نے کسی ٹھوس قانونی جواز کے بغیر ٹریبونل کے حتمی فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن منظور کر کے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔

سپریم اپیلیٹ کورٹ نے واضح کیا کہ اثاثے چھپانے کا معاملہ کسی بھی مرحلے پر اٹھایا جا سکتا ہے اور ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے مناسب انکوائری کے بغیر کاغذات نامزدگی منظور کرنا قانون کی روح کے منافی تھا۔عدالت نے چیف کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلے کی نقل چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو فوری قانونی کارروائی کے لیے ارسال کرنے کا بھی حکم دے دیا۔