Live Updates

عدالتی فیصلوں اور میئر کے وعدوں کے باوجود کے ایم سی، ٹاؤنز، واٹر کارپوریشن اور کے ڈی اے کے 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین واجبات سے محروم

بجٹ 2025-26 منظور شدہ 12 فیصد تنخواہوں کا اضافہ تاحال ادا نہ کرنا بلدیاتی ملازمین کے ساتھ بدترین ناانصافی اور معاشی استحصال ہے، ڈاکٹر فاروق ستار اگر مظلوم ملازمین، ڈاکٹرز اور نرسز کی بند تنخواہیں اور پنشن فوراً بحال نہ کی گئیں تو احتجاج کا رخ اندرونِ کے ایم سی اور پھر وزیر اعلی ہاؤس کی طرف ہوگا، ایم کیو ایم ایم اے جناح روڈ کے ایم سی بلڈنگ کے سامنے بلدیاتی و صوبائی ملازمین کے پامال شدہ انسانی حقوق اور بقایاجات کی فوری واگزاری کے لیے مرکزی لیبر ڈویڑن کے زیر اہتمام عظیم الشان احتجاجی دھرنا

جمعرات 9 جولائی 2026 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2026ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مرکزی لیبر ڈویڑن کے زیرِ اہتمام کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ، ٹاؤنز، واٹر کارپوریشن اور کے ڈی اے کے 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کے پامال شدہ حقوق، پنشن، گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ اور دیگر دیرینہ واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف ایم اے جناح روڈ پر تاریخی کے ایم سی عمارت کے باہر ایک عظیم الشان اور فلک شگاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں لیبر ڈویڑن کے ذمہ داران، لیگل ایڈ کمیٹی کے ارکان، قانونی ماہرین سمیت معمر ریٹائرڈ ملازمین، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ہزاروں کی تعداد نے شرکت کر کے سندھ حکومت اور بلدیاتی انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا، اس موقع پر مظاہرے کے شرکاء اور میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ عدالتی احکامات اور معزز عدالت عالیہ میں میئر کراچی کے تحریری و زبانی وعدوں کے باوجود 2017ء سے لے کر اب تک ہزاروں بزرگ ملازمین اپنے جائز معاشی حقوق سے محروم ہیں اور اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی اور کٹھن حالات میں گزارنے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین جنہوں نے اپنی جوانی اور پوری زندگی ان اداروں کو سنوارنے میں صرف کر دی آج بڑھاپے میں اپنی ہی جمع پونجی کے حصول کے لیے محکموں کے چکر کاٹ کاٹ کر ہلکان ہو رہے ہیں جو کہ سندھ حکومت کی بدترین ناانصافی اور محنت کشوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ سندھ حکومت ہر سال یورپی یونین اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا سو سو ارب روپے کا قرضہ اتار رہی ہے لیکن کراچی کے ان مظلوم گھرانوں کے 25 ارب روپے یکمشت ادا کرنے سے وزیر اعلیٰ کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی، انہوں نے خبردار کیا کہ اب ان غریبوں کی دعائیں لیں کیونکہ اب دوائیں کام نہیں آئیں گی اور اگر ان مظلوموں کی آہیں اور بددعائیں لگیں تو گرتی ہوئی کٹھ پتلی کرسیاں بھی نہیں سنبھل پائیں گی، انہوں نے بینرز پر درج مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی ملازمین کی پچھلے سال کے بجٹ 2025/26ء میں منظور شدہ تنخواہوں کا 12 فیصد اضافہ اور واٹر بورڈ کے ملازمین کا جائز اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے کیونکہ یہ ان کا قانونی حق ہے کوئی خیرات نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کی یونین کونسلز کی حلقہ بندیوں میں بدترین ڈاکہ ڈالا اور کراچی کے ڈومیسائل پر غیر قانونی طور پر انڈر ٹرینی اور بیرونی SCUG افسران کو تعینات کر کے مقامی نوجوانوں کا حق مارا ہے جبکہ ملازمین کے بچوں کے لیے مخصوص سن کوٹہ (Son/Daughter Quota) کو بھی سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے جسے ایم کیو ایم کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی، ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں انتباہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر کے ایم سی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز، نرسز کی بند تنخواہیں بحال نہ کی گئیں اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات فوری طور پر ادا نہ ہوئے تو احتجاج کا یہ پرامن دائرہ کار کے ایم سی عمارت کے اندر منتقل ہوگا اور اگر پھر بھی سنوائی نہ ہوئی تو کراچی کے عوام وزیر اعلیٰ ہاؤس کا تاریخی گھیراؤ اور دھرنا دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی انتظامیہ پر عائد ہوگی، احتجاجی مظاہرے میں مرکزی رہنما شبیر قائمخانی، زاہد منصوری، اشرف علی سمیت انچارج لیبر ڈویڑن ارشد انصاری اور مزدور رہنماؤں لیبر ڈویڑن کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات