مٹن کا وعدہ کرکے چکن کیوں کھلایا؟ باراتیوں کا لڑکی والوں پر دھاوا

محمد عبداللہ کا نکاح تو ہو گیا مگر مٹن نہ ملنے پر باراتی آپے سے باہر، پنڈال میدان جنگ بن گیا، شادی کی خوشیاں غارت

Sajid Ali ساجد علی اتوار 12 جولائی 2026 12:01

مٹن کا وعدہ کرکے چکن کیوں کھلایا؟ باراتیوں کا لڑکی والوں پر دھاوا
پٹنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2026ء) بھارتی ریاست بہار میں شادی کے کھانے کے مینیو پر باراتی دلہن والوں سے جھگڑ پڑے، تقریب میں مہمانوں کو مٹن نہ ملنے پر دلہا اور دلہن والوں کے درمیان ایسا شدید جھگڑا ہوا کہ پوری تقریب میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہار کے ضلع سہرسا کے علاقے مہیشی بلاک کے گاؤں راجن پور میں مٹن نہ ملنے پر دولہا اور دلہن کے خاندانوں کے درمیان ایسا پرتشدد تصادم ہوا جس نے ہال کو میدانِ جنگ بنا دیا، تلخ کلامی سے شروع ہونے والا یہ معاملہ لاٹھیوں، گھونسوں اور تلواریں لہرانے تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں دولہا کے چچا سمیت کم از کم 12 باراتی شدید زخمی ہو گئے، جنہیں قریبی سب ڈویژنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ تقریب سمری بختیا پور میونسپل کونسل کے وارڈ نمبر 12 کے رہائشی محمد انور کے بیٹے محمد عبداللہ عرف چاند اور راجن پور گاؤں کے رہائشی محمد جاوید عرف موٹو کی صاحبزادی کی تھی، شادی کیلئے دونوں خاندان انتہائی خوشگوار اور پُر امن ماحول میں یکجا ہوئے، روایتی رسم و رواج کے مطابق دولہا محمد عبداللہ کا نکاح انتہائی پرسکون اور خوش آئند انداز میں مکمل ہوا، اور دونوں خاندان ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے، دولہا اور دلہن کے چہروں پر نئی زندگی کی شروعات کی خوشی واضح تھی اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگلے ہی لمحے یہ خوشیاں ایک بھیانک منظر میں تبدیل ہو جائیں گی۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ نکاح کی باقاعدہ تکمیل کے بعد دلہن والوں کی جانب سے باراتیوں اور مہمانوں کے اعزاز میں پرتعیش کھانے کا اہتمام کیا گیا اور مہمانوں کو دسترخوان پر بٹھایا گیا، دولہا کے رشتہ داروں اور باراتیوں کا دعویٰ ہے کہ شادی طے پاتے وقت دلہن کے خاندان نے یہ باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ شادی کے خاص موقع پر باراتیوں کی تواضع مٹن کے روایتی اور مہنگے پکوانوں سے کی جائے گی، تاہم جیسے ہی کھانا پیش کیا گیا تو مہمانوں کے سامنے مٹن کی جگہ چکن رکھ دیا گیا، مٹن کے شوقین باراتی دسترخوان پر چکن دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

بتایا جارہا ہے کہ دولہا کے چچا محمد عرفان اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے فوری طور پر دلہن کے خاندانی اراکین اور کیٹرنگ عملے کو بلایا اور اس مینیو کی تبدیلی پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا، باراتیوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے اور وعدے کے برعکس سستا کھانا پیش کرکے ان کی توہین کی گئی ہے، جس پر دلہن والوں نے ابتدائی طور پر باراتیوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے مٹن کا انتظام نہیں ہو سکا، اس لیے چکن تیار کروایا گیا، لیکن باراتی اس وضاحت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، انہوں نے طنز و مزاح اور اونچی آواز میں غصے کا اظہار شروع کیا، یہ بحث دیکھتے ہی دیکھتے تکرار اور پھر گالی گلوچ میں تبدیل ہوگئی۔

بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بات اس وقت قابو سے باہر ہوئی جب دلہن کے مشتعل رشتہ داروں نے احتجاج کرنے والے باراتیوں پر ہٹ دھرمی کا الزام لگایا اور اچانک ہال کے اندر پڑی لاٹھیاں، بانس اور لوہے کے راڈ اٹھا لیے، دلہن والوں نے باراتیوں پر دھاوا بول دیا، لاٹھیاں اور مکے برسا کر انہیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا، یہ منظر اس وقت انتہائی خوفناک ہو گیا جب کچھ لوگوں نے پنڈال میں تیز دھار تلواریں نکال لیں اور مہمانوں کو سرعام لہراتے ہوئے سنگین دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس اچانک حملے کے بعد پوری شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی، خواتین اور بچے خوف کے مارے چیختے ہوئے ہال سے باہر بھاگے، مرد حضرات اپنی جانیں بچانے کے لیے میزوں اور کرسیوں کے پیچھے چھپنے لگے، اس تصادم کے نتیجے میں دولہا کے خاندان کے کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر کے سروں، ہاتھوں اور پیٹھ پر لاٹھیوں اور راڈز کے گہرے زخم آئے۔

پتا چلا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے زخمیوں کو قریبی سمری بختیا پور سب ڈویژنل ہسپتال منتقل کیا، بعض زخمیوں کی حالت سر پر گہری چوٹیں آنے کے باعث تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی سہرسا صدر کے ایس ڈی پی او آلوک کمار کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور ملوث افراد کو منتشر کرکے پنڈال کو اپنے گھیرے میں لے لیا، فی الحال دونوں خاندانوں کی جانب سے کوئی باقاعدہ تحریری شکایت یا ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی کیونکہ مقامی عمائدین اور رشتہ دار معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔