بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ عالمی چیلنج بن گئے

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 16 جولائی 2026 17:00

بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ عالمی چیلنج بن گئے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 جولائی 2026ء) امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی جانب سے منظم جرائم سے منسلک گروہوں کے خلاف شروع کی گئی کارروائی 'آپریشن ہارڈ بال‘ کو بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے اس آپریشن کے نتیجے میں امریکہ، کینیڈا اور اسپین میں 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 37 ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی۔

اس کارروائی کے مرکزی کردار بھارتی شہری لارنس بشنوئی ہیں، جو اس وقت بھارت میں کی ایک جیل میں قید ہیں۔ امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ وہ اسمگل شدہ موبائل فونز کے ذریعے بھارتی ریاست گجرات میں قائم جیل کے اندر سے بیٹھ کر قتل، بھتہ خوری اور منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کی کارروائیوں کے لیے ہدایات دیتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے مبینہ نائب گولڈی برار، جن کا اصل نام ستندر جیت سنگھ برار بتایا جاتا ہے، تاحال مفرور ہیں۔

ایف بی آئی نے حال ہی میں برار کی گرفتاری میں مدد کے لیے 50 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہوں کا پھیلتا ہوا نیٹ ورک

ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن ہارڈ بال اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں قائم منظم جرائم پیشہ گروہ کس طرح امن و امان کے ایک مقامی مسئلے سے اوپر اٹھکر اب شمالی امریکہ، یورپ اور دیگر خطوں تک پھیلے ہوئے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک بن چکے ہیں۔

انسدادِ منشیات کے معروف ماہر شری کمار مینن نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''داؤد ابراہیم کی ڈی کمپنی یا چھوٹا راجن کے گروہ کے برعکس، جو زیادہ تر دبئی اور ممبئی سے سونے اور چاندی کی اسمگلنگ پر مبنی نیٹ ورکس کے ذریعے کام کرتے تھے، بشنوئی گینگ بھارتی منظم جرائم کی ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘

ان کے مطابق ماضی کے گروہوں کے مقابلے میں بشنوئی گینگ کہیں زیادہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جس میں خفیہ مواصلاتی ذرائع اور بیرونِ ملک موجود ایجنٹس بھی شامل ہیں، جو اس گینگ کی کارروائیوں کو مربوط کرتے ہیں۔

مینن نے کہا، ''اگرچہ اس بھارتی گینگ کا موازنہ کولمبیا کے منشیات فروش کارٹلز سے نہیں کیا جا سکتا لیکن شمالی امریکہ میں منشیات اور بھتہ خوری کے منظرنامے میں کسی بھارتی گینگ کا ابھرنا ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارتی گینگ طویل عرصے تک علاقائی عناصر سمجھے جاتے رہے، لیکن بشنوئی کیس ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ بین الاقوامی منظم جرائم میں کردار ادا کرنے والے گروہ بنتے جا رہے ہیں۔

‘‘

ٹیکنالوجی نے جرائم کی دنیا کا نقشہ بدل دیا

ماضی کے جرائم پیشہ گروہوں کے برعکس بشنوئی نیٹ ورک زیادہ تر نوجوانوں مشتمل، غیر مرکزی اور جدید ڈیجیٹل ذرائع سے لیس ہے۔ وہ جرائم جو کبھی مقامی زمین کے تنازعات اور کرائے کے قتل تک محدود تھے، اب دولت، مہاجرت اور ڈیجیٹل مواصلاتی ذرائع کے بل بوتے پر سرحدوں سے آگے پھیل چکے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اس پیمانے کی تحقیقات میں اب مختلف ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلہ، مشترکہ گرفتاریوں، خفیہ مواصلاتی نظام کے ذریعے نگرانی اور سرحد پار مالی لین دین کا سراغ لگانا ضروری ہو گیا ہے۔

آپریشن ہارڈ بال میں امریکہ، کینیڈا، اسپین اور بھارت کے اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا، جو اس خطرے کی بین الاقوامی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا بین الاقوامی پولیسنگ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجے ساہنی کا کہنا ہے کہ آپریشن ہارڈ بال نے کسی بالکل نئے رجحان کو سامنے نہیں لایا بلکہ اس خطرے کو بے نقاب کیا ہے، جو کئی دہائیوں سے ارتقا پذیر ہے۔

ساہنی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''بشنوئی کیس بھارتی منظم جرائم کے بین الاقوامی پھیلاؤ کا آغاز نہیں ہے بلکہ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے ادارے آخرکار اس خطرے کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں، جو کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا رہا تھا۔

‘‘

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے کام کرنے کے طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ساہنی کا کہنا تھا کہ اس ارتقا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بشنوئی کیس بھارتی منظم جرائم کے ارتقا کی تازہ کڑی

سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر اور منظم جرائم کے انسداد میں ماہر اویناش موہانانے نے کہا کہ بشنوئی نیٹ ورک پہلا بھارتی جرائم پیشہ گروہ نہیں ہے، جو عالمی سطح پر پھیلا ہے۔

اس سے پہلے ڈی کمپنی اور چھوٹا راجن گروہ بھی بھتہ خوری، کرائے کے قتل، منشیات کی اسمگلنگ اور محفوظ پناہ گاہوں کے لیے بین الاقوامی نیٹ ورک قائم کر چکے ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امریکی حکام کی جانب سے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کی جانے والی کارروائی بشنوئی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماضی کے بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کو بھی اسی وقت مؤثر طور پر کمزور کیا جا سکا تھا، جب خفیہ معلومات کے تبادلے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون نے قومی سرحدوں کو عبور کیا۔‘‘

ادارت: شکور رحیم