(ن)لیگ مت بھولے کہ وفاق میں حکومت لیکن پھر بھی گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی

جو جی بی میں ہوا وہی اگر آزاد کشمیر الیکشن میں ہوا تو ن لیگ کے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہوگا، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، سینئرصحافی حامد میر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 16 جولائی 2026 19:13

(ن)لیگ مت بھولے کہ وفاق میں حکومت لیکن پھر بھی گلگت بلتستان میں اکثریت ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 16 جولائی 2026ء ) سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ (ن) لیگ مت بھولے کہ وفاق میں حکومت لیکن پھر بھی گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی، جو جی بی میں ہوا وہی اگر آزاد کشمیر الیکشن میں ہوا تو ن لیگ کے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہوگا، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ حامد میر ایکس پر روزنامہ جنگ میں لکھا گیا اپنا کالم شیئر کیا جس کے اقتباس کے مطابق آج شائد شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ انکا کوئی متبادل نہیں لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔

وہ مولانا فضل الرحمٰن جن کے کندھوں پر چڑھ کر شہباز شریف مُکّے لہرایا کرتے تھے آج شہباز شریف کے ساتھی انہی مولانا کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمٰن کے جس بیان کی مذمت کی جا رہی ہے وہ بیان مولانا نہ دیتے تو بہتر تھا لیکن کل کو مسلم لیگ (ن) پر برا وقت آیا تو شہباز شریف کو انہی مولانا فضل الرحمٰن کے کندھے دوبارہ یاد آئیں گے۔

مسلم لیگ (ن) مت بھولے کہ وفاق میں حکمران ہوتے ہوئے بھی اسے گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی۔ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کیساتھ وہی کچھ ہوا جو گلگت بلتستان میں ہوا تو پھر اسکے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہو گا۔
حامد میر نے مزید لکھا کہ وہ ایسا سیاسی بوجھ تو نہیں بنتی جا رہی جسے اتار پھینکنا ضروری ہو جائیگا؟ مسلم لیگ ن کے زوال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اندرونی لڑائیاں بنیں گی جو اب سامنے آنیوالی ہیں۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے معاملات بھی کافی خراب ہیں جو دونوں کیلئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ پھر بھی کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے تو فیصل واؤڈا کی حکومت پر تنقیدکا ایک تنقیدی جائزہ کافی ہے۔ نجانے انہیں آج کے حکمران کل کو کسی اپوزیشن الائنس کے کنٹینر یا کسی جیل میں اکٹھے کیوں نظر آ رہے ہیں؟