پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ روابط میں نئی پیش رفت کا خیرمقدم ، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

پیر 20 جولائی 2026 23:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جولائی2026ء) پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ روابط میں نئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔پیر کو وزارت خارجہ سے جاری مشترکہ علامیہ میں دونوں ممالک نےاقتصادی، تعلیمی اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ پر زور دیا۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے 20 جولائی 2026 کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارتِ خارجہ میں کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کا خیرمقدم کیا۔

(جاری ہے)

دونوں رہنمائوں کے درمیان ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ روابط میں نئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کینیڈین وزیرخارجہ کوخطے میں جاری تنازع کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی کی ضرورت اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے، امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے فروری 2026 میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اس پلیٹ فارم کی اہمیت کا اعادہ کیا، تاکہ مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھایا جا سکے اور تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

دونوں رہنمائوں نے اقتصادی، تعلیمی اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ پر زور دیا۔فریقین نے کینیڈا میں مقیم تین لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور 9 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں، سیاحت اور دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پارلیمانی روابط کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا اور دونوں ممالک کی مقننہ کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ انیتا آنند نے تجارت اور سرمایہ کاری کو مشترکہ خوشحالی اور اقتصادی استحکام کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ دونوں نے پاکستان۔کینیڈا غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے (FIPA) پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔

دونوں رہنمائوں نے پاکستان۔کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی اتفاق کیاجبکہ پاکستان میں کینیڈین سرمایہ کاری کا جائزہ لیا اور صاف توانائی، کان کنی، اہم معدنیات، بنیادی ڈھانچے، زراعت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری سمیت ترجیحی شعبوں میں کاروباری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے مزید کاروباری وفود کے تبادلوں کا بھی خیرمقدم کیا۔توانائی کے تحفظ اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں وزراء نے شمسی، ہوا اور بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجیز سمیت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر کا خیرمقدم کیا کہ کینیڈین کمپنی JCM Power کی 240 میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کے لیے کامیاب بولی، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے ہے، کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری حاصل ہو چکی ہے۔

یہ اہم سرمایہ کاری پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ دونوں وزراء نے غذائی تحفظ اور خوراک کی فراہمی کے لیے مستحکم منڈی تک رسائی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس شعبے میں جاری تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کینولا، تیل دار بیج، دالیں، سویابین، اناج، چاول، مصالحہ جات اور پھلوں سمیت زرعی تجارت میں دوطرفہ اضافے کی حوصلہ افزائی کی۔

اس کے علاوہ زرعی خوراک کی ویلیو چین، زرعی ٹیکنالوجی، غذائی تحفظ، حفظانِ صحت اور نباتاتی صحت کے معیارات و ضوابط پر تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ اسی تناظر میں دونوں رہنمائوں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے پیش گوئی کے قابل نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی نئے پروٹوکول پر دستخط کیے۔ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی بھی تکنیکی تعاون اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع تلاش کریں گی۔

فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان کے معدنی وسائل اور ذمہ دارانہ کان کنی میں کینیڈا کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک نے کان کنی کی پوری ویلیو چین، بشمول معدنی تلاش اور متعلقہ خدمات میں تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کو 2027 میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی PDAC کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

دونوں ممالک نے اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی امن و سلامتی، شہری آبادی اور معیشت پر اس کے اثرات، افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے جاری خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیاجبکہ فریقین نے انسدادِ دہشت گردی اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

وزیر خارجہ انیتا آنند نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوام متحدہ، انٹرپول اور دیگر اداروں کے ذریعے مختلف منصوبوں کے تحت پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے عالمی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر خارجہ انیتا آنند نے تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے شعبوں میں ترقیاتی معاونت کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا۔

دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے اور پیش رفت کا سالانہ جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔