نئی دہلی،عمر عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کا احتجاج، پہلےجموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت، پھر خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ

منگل 21 جولائی 2026 11:57

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 جولائی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کے وزیراعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی صرف پہلا قدم ہے اور نیشنل کانفرنس کی جدوجہد جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی تک جاری رہے گی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کی قیادت میں نئی دہلی میں جنت منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پہلے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور پھر خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہرایا اور اسے پارٹی کا مرکزی سیاسی پیغام قرار دیا۔

عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں احتجاج کا مقصد مودی حکومت پر جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے پورے کرنے کےلیے دبائو بڑھانا ہے۔

(جاری ہے)

عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی نئی دہلی میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوئی جب تمام دیگر راستے ختم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ دو سال سے مسلسل بھارتی حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دلاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے منتخب اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ریاستی حیثیت اور خصوصی حیثیت و آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خصوصی قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنامطالبہ ترک نہیں کریں گے‘‘۔ یہ احتجاج جنت منتر پر شروع ہوا لیکن جلسے کی اجازت نہ ملنے کے بعدمظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔ بعد ازاں نیشنل کانفرنس کے رہنمائوں نے کانسٹیٹیوشن کلب کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ پولیس نے مظاہرین پرآنسو گیس کا استعمال کیا۔عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس کے دیگر رہنمائوں کے ہمراہ رکشا میں احتجاجی مقام پر پہنچے۔ عبداللہ نے اس احتجاج کو ایک طویل سیاسی مہم کا آغاز قرار دیتے ہوئےکہا کہ ہم نے یہ احتجاج بھارتی حکومت کو ان کے وعدوں کی یاد دلانے کے لیے کیا ہے جن کے مطابق پہلے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور پھر خصوصی حیثیت بحال ہو گی ۔