تحقیق اور جدت ہی ترقی یافتہ قوموں کی بنیاد، محققین پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں، گورنرسندھ

بدھ 22 جولائی 2026 15:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جولائی2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام "عالمی سطح پر تحقیقی اثر و رسوخ کے جشن اور قومی جدت طرازی کے لیے مؤثر راستوں کے استحکام" کے موضوع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ملک کے ممتاز سائنس دانوں اور محققین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب سے گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد، ایچ ای سی کے رکن حبیب علی بخاری اور مشیر برائے تحقیق ڈاکٹر محمد ناصر نے خطاب کرتے ہوئے ملک میں تحقیق، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب مسلمان علم، تحقیق اور اختراع سے وابستہ تھے تو دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی، لیکن تحقیق سے دوری نے قوموں کو زوال سے دوچار کر دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور و فکر، تحقیق اور علم کے حصول کی تلقین کرتا ہے، اس لیے ترقی کے خواہاں معاشروں کو تحقیق اور سائنسی سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سائنس دان اور محققین ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی صلاحیتوں کی بدولت پاکستان نے قومی دفاع، زراعت، صحت، معیشت اور خوراک سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی قومی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تحقیق اور جدت کو بنیادی ترجیح دینا ہوگی۔صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے کہا کہ سائنس دانوں اور محققین کا بنیادی فریضہ نئی ایجادات، دریافتوں اور علمی ترقی کے ذریعے معاشرے کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان دنیا میں تحقیق اور سائنس کے میدان میں رہنمائی کر رہے تھے اور مغربی دنیا ان کے علمی کارناموں سے استفادہ کرتی تھی، تاہم تحقیق سے دوری نے مسلم دنیا کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ترقی یافتہ ممالک اپنی تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحقیق کا مقصد صرف تحقیقی مقالات شائع کرنا نہیں بلکہ اس کے نتائج کو معاشرے، صنعت، معیشت اور عوامی زندگی میں بہتری کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI)، نے غیر معمولی ترقی کی ہے جس نے تعلیم، تدریس اور تحقیق کے روایتی طریقوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے طویل لیکچرز کا خلاصہ چند منٹوں میں تیار کیا جا سکتا ہے، اس لیے اساتذہ، محققین اور تعلیمی اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد نے بتایا کہ سندھ حکومت نے سائنس، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے چار ارب روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی جامعات میں تقریباً 62 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 40 فیصد پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہیں۔

ان کے مطابق تحقیقی منصوبوں کے لیے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سخت جانچ پڑتال کے بعد 142 منصوبوں کی منظوری دی گئی تاکہ معیاری تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ایچ ای سی کے رکن حبیب علی بخاری نے کہا کہ تقریب کا مقصد عالمی سطح پر نمایاں تحقیقی اثر و رسوخ رکھنے والے 90 پاکستانی سائنس دانوں اور محققین کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، اختراع اور سائنسی سوچ ہی مضبوط معیشت اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لہٰذا ملک میں تحقیق دوست ماحول کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایچ ای سی کے مشیر برائے تحقیق ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی محققین کی سہولت کے لیے تحقیقی سفری گرانٹس میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور تحقیقی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق کے فروغ، عالمی سطح پر پاکستانی محققین کی نمائندگی مضبوط بنانے اور جدید سائنسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

تقریب کے اختتام پر ممتاز سائنس دانوں اور محققین کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں تحقیق، اختراع، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے ذریعے تعلیم، معیشت اور قومی ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے تاکہ ملک عالمی سطح پر سائنسی اور تحقیقی میدان میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکے۔