نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا حکم

یورپ کے غریب ممالک کے نوجوان مجرموں کو جیلوں سے لاکر اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں غیرقانونی بستیاں تعمیر کی جارہی ہیں.امریکی صحافی ٹکرکارلسن کا دعوی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ 25 جولائی 2026 17:08

نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر ..
یروشلم(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 جولائی ۔2026 ) اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں ایک بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا حکم دیا ہے، یہ حکم ایک غیر قانونی بستی کے قریب ہونے والی فائرنگ کے بعد دیا گیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے.

اسرائیلی جریدے کی رپورٹ کے مطابق نابلس کے علاقے میں بھی اسرائیلی افواج نے کاروائیاں کی ہیں اور حوات گیلاد بستی کے قریب حملہ کرنے کے مبینہ فلسطینی ملزم کا گھر مسمار کیا گیا.

(جاری ہے)

فلسطینی انتظامیہ نے پورے مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور قابضین کی دہشت گردی کی مذمت کی، تشدد کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی اور خبردار کیا کہ یہ علاقہ ایک خوفناک تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے ادھر ترکی نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے قابضہانہ تشدد کی مذمت کی جبکہ یورپی یونین نے اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیز زبان سے گریز کریں، کشیدگی کو کم کرنے میں تعاون کریں اور تشدد کے اس بھیانک چکر کو ختم کریں.

اسرائیلی حکومت کی سخت گیر پالیسیاں: بنجمن نیتن یاہو کی حکومت میں شامل انتہا پسند وزراءاتمار بن غفیر اور بیزلیل سموٹریچ سمیت دیگر کی اشتعال انگیز بیان بازی اور آباد کاروں کی پشت پناہی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے اس واقعے کے فوری بعد اسرائیلی حکومت نے غیر قانونی بستیوں کو مزید تیزی سے قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے. نیتین یاہو کے حکم پر جاری فوجی کریک ڈاﺅن میں فلسطینی دیہاتوں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، جس سے خطے میں ایک نئے خونریزتصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب حوات گیلاد نامی غیر قانونی اسرائیلی بستی سے تعلق رکھنے والے یہودی آباد کاروں کا ایک مسلح گروپ نابلس کے قریب واقع فلسطینی گاﺅں”تل“ میں داخل ہوا اور مقامی فلسطینیوں کے گھروں اور املاک پر حملہ کرنے کی کوشش کی اوردیہاتیوں پر براہ راست فائرنگ کی .

بتایا گیا ہے کہ حملے کے دوران ایک فلسطینی نے اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار کا ہتھیار چھین کر فائرنگ کر دی اس شدید فائرنگ کے تبادلے اور اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 4 فلسطینی اور 2 اسرائیلی فوجی جن میں سے ایک آباد کار بھی تھا ہلاک ہو گئے ادھر امریکی صحافی ٹکرکارلسن نے نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یورپ کے غریب ممالک کے نوجوان مجرموں کو جیلوں سے لاکر اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں غیرقانونی بستیاں تعمیر کی جارہی ہیں.

انہوں نے کہاکہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ یورپ کے غریب ممالک کی جیلوں میں قیدنوجوان مجرموں کو رہا کرواکر انہیں اسرائیل لایا جاتا ہے جہاں انہیں پولیس اور فوج کی سرپرستی میں مختلف اہداف دیئے جاتے ہیں یورپی جیلوں سے رہا ہوکر جانے والے مجرموں کو اسرائیلی حکومت” آبادکار“بناکر پیش کرتی ہے . ٹکرکارلسن نے یہ الزام بھی لگایا کہ یورپی نوجوانوں کو اسلحہ‘پیسہ اور دیگرسہولیات کے لیے امریکا‘یورپ میں بیٹھے دولت مند یہودی انتہا پسندصیہونی حکومت کومالی مددفراہم کرتے ہیں ‘ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مذہبی لوگ نہیں بلکہ مجرم ہیں جواپنی رہائی کے بدلے اسرائیلی حکومت کے لیے”مجرمانہ“خدمات انجام دیتے ہیں‘ان کے مطابق زیادہ تر نوجوان یوکرین‘رومانیہ اور پولینڈ جیسے غریب یورپی ملکوں کی جیلوں سے لائے جاتے ہیں ان میں بہت سارے خطرناک جرائم میں سزا یافتہ بھی ہیں.