وفاقی وزیر داخلہ غیر آئینی بیانات پر مستعفی ہوں، نثار کھوڑو کا مطالبہ

ہائبرڈ نظام اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات آئین کے منافی ہیں، بزنس مین سعید ایس محمد کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس

ہفتہ 1 اگست 2026 19:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہائبرڈ نظام، موجودہ نظام کے "کولیپس" ہونے اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ہفتہ کے روز معروف بزنس مین سعید ایس محمد کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ اگر جمہوری نظام کو ناکام اور ہائبرڈ نظام کو بہتر قرار دیتے ہیں تو انہیں حکومت اور اپنے منصب پر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات آئین، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے خلاف ہیں۔پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی، صوبائی وزیر سعید غنی، جاوید ناگوری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر معروف بزنس مین سعید ایس محمد نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جس پر نثار کھوڑو نے انہیں خوش آمدید کہا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریق? کار موجود ہے اور جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہ کرے، کوئی نیا صوبہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب اسمبلی نئے صوبے کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے، اس لیے اگر کہیں نئے صوبے کی ضرورت ہے تو وہ پنجاب ہے، سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور افواجِ پاکستان کا نام لے کر سیاست میں انتشار پیدا کر رہے ہیں، جبکہ خود افواج سیاست سے لاتعلقی کا واضح اعلان کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ ملک کو اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور اسے قرضوں پر چلایا جا رہا ہے، ایسے میں 22 صوبوں کی بات کرنا غیر سنجیدہ ہے کیونکہ اس سے انتظامی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں منتخب حکومتوں کو بار بار برطرف کیا گیا، آئین توڑا گیا، مارشل لا نافذ کیے گئے اور شق 58(2)(بی) کے ذریعے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم ملک کے مسائل کا واحد حل آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ہے۔ایک سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کو مصطفی کمال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، جبکہ جلال پور کینال کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں زیر التوا ہے اور اجلاس ہونے پر اسے بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔

اس موقع پر بزنس مین سعید ایس محمد نے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جس کا پارٹی قیادت نے خیرمقدم کیا۔