لبنان میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تباہی پر گہری تشویش ہے ، اقوام متحدہ

اسرائیلی فوج جنگ بندی کے باوجود جس طرح اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے،بیان

اتوار 2 اگست 2026 12:00

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اگست2026ء) اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں کی جانے والی تباہی اور مسماری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔غیرملکی خبرساں ادارے کے مطابق یو این او کے ایک جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے باوجود جس طرح اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے اس سے شہری انفراسٹرکچر، ثقافتی ورثے اور مختلف طبقات کی یادگاریں سب مسمار ہو رہی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع کاٹز نے اس تازہ تباہی کو بھی دہشت گردی کے مراکز اور سرنگوں کا نام دیا ہے۔ جو اس تاریخی قلعے بیو فورٹ کے گرد و پیش میں تھے ، جسے اسرائیلی فوج نے کچھ ہی عرصہ پہلے قبضے میں لیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تازہ تباہی کے لیے 700 ٹن بارود استعمال کیا ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے یہ تاریخی قلعہ بھی یونیسکو کی اس فہرست میں شامل ہے جسے عالمی ورثے کی فہرست میں ہونے کے باوجود خطرے میں کہا جاتا ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون کو بھی اس تباہی کی نئی واردات پر کہنا پڑا تھا کہ ان مقامات کو بارود سے اڑانا خطرناک کشیدگی کی انتہا ہے۔ نیز اس سے اس معاہداتی فریم ورک کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو پچھلے ماہ امریکہ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔اسرائیل کے ساتھ طے پائے معاہدے کے مطابق لبنانی فوج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے اور اسرائیلی فوج کو لبنانی سرزمین کے پائلٹ زون قرار دیے گئے علاقے سے پیچھے ہٹنا ہے۔

اسرائیلی فوج کے نکلنے کے بعد لبنان کی اپنی فوج ان علاقوں میں آ سکے گی۔صدر جوزف عون نے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے ایک اور دور سے پہلے یہ بارودی حملے ایک منفی پیغام دینے اور استحکام پیدا کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو کمزور کرنے کا اقدام ہیں۔خیال رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا اور دور اگلے ہفتے اٹلی میں متوقع ہے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بعض دیگر علاقوں میں بھی اسرائیلی فوج نے بارود لگا کر دھماکے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک کارروائی جنوبی لبنان میں ہفتے کے روز بھی کی ہے۔ جس سے دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہ تباہی پھیلانے کا اسرائیلی فوج کا انداز اب ختم کیا جانا چاہیے۔ تاکہ سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل نکل سکے۔ خیال رہے 2 مارچ سے شروع ہونے والی نئی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج اب تک 4300 سے زائد لبنانیوں کو قتل کر چکی ہے۔