’جب گرم ہوا کا جھونکا چلتا ہے تو طاہراشرفی اور اس کی جماعت نظر آتی ہے، کوئی اور نظر نہیں آتا‘

گورننس بہتر کریں، اگر چھوٹے صوبے بنا کر مزید 200 یا 400 وی آئی پیز کو قوم پر مسلط کرنا ہے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا، چیئرمین علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی کی پریس کانفرنس

Sajid Ali ساجد علی اتوار 2 اگست 2026 13:03

’جب گرم ہوا کا جھونکا چلتا ہے تو طاہراشرفی اور اس کی جماعت نظر آتی ہے، ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اگست 2026ء) چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین، قانون اور دستور کو تسلیم کرنے والوں سے ہر حال میں مذاکرات ہونے چاہییں، تاہم جو آئین اور قانون کو نہیں مانتے، انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ان پر بلاوجہ تنقید کی، حالانکہ انہوں نے کبھی مولانا یا ان کی جماعت کا نام نہیں لیا، جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو بعض لوگ پاکستان علماء کونسل اور طاہر اشرفی کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں، جب کہ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں، ہر جماعت اپنا سیاسی کام کرے۔

حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ جب بھی ملک میں کوئی بحران یا مشکل صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پاکستان علماء کونسل اور اس کے کارکن میدان میں نظر آتے ہیں، خدمت اور قومی یکجہتی کے لیے کام کرنا ہی ان کی جماعت کی ترجیح ہے، موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک میں نظام کی اصلاح کی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ نظام کمزور ہو چکا ہے اور کہا کہ اگر واقعی اصلاح درکار ہے تو اس کا آغاز نظامِ عدل سے ہونا چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، اگر پاکستان کو آئین اور قانون کے مطابق چلایا جائے تو پھر کسی کو یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ نظام ناکام ہو چکا ہے، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی ہی مسائل کا مستقل حل ہے۔

طاہر اشرفی نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صرف مزید دو سو یا چار سو وی آئی پیز پیدا کرنے کے لیے نئے صوبے بنائے جائیں تو اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، حکومت کو انتظامی اصلاحات، بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔