Live Updates

ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے روک دیے

DW ڈی ڈبلیو اتوار 2 اگست 2026 13:20

ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے روک دیے
  • ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے روک دیے
  • غزہ میں نئے اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات فلسطینی ہلاک

غزہ میں نئے اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات فلسطینی ہلاک

غزہ کی پٹی پر تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق غزہ شہر میں ایک رہائشی عمارت کے فلیٹ پر راکٹ حملے میں دو افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کے وسطی علاقے میں ایک اور حملے میں ایک خاتون سمیت دو فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے شمال مغربی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ایک بچے سمیت تین افراد مارے گئے۔

اکتوبر سن 2025 سے غزہ میں جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود مہلک حملے اور جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔

(جاری ہے)

اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے متعدد مبینہ ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کے روز حماس کے ایک مشتبہ جنگجو کو ہلاک کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ وہ سات اکتوبر سن 2023 کو جنوبی اسرائیل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھا۔

فوج نے یہ بھی بتایا کہ جمعے کے روز ایک اور مبینہ حماس کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق دونوں افراد اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں سے قبل شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں اور فضائی نگرانی کا استعمال شامل تھا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ حماس’’مکمل طور پر غیر مسلح‘‘ ہونے پر متفق ہو گئی ہے، تاہم حماس نے مذاکرات میں کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی۔



ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے روکنے کا اعلان کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ نئے فوجی حملے فی الحال موخر کر دیے ہیں کیونکہ ان کے بقول ایک معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ حملے روکنے کا فیصلہ اس شرط سے نتھی ہے کہ معاہدہ جلد طے پا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج مکمل طاقت کے ساتھ کارروائی کے لیے تیار ہے، تاہم ایران اور خطے کے دیگر ممالک نے واشنگٹن سے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کے مطابق معاہدے کے بنیادی خدوخال پر اتفاق ہو چکا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور ’’ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ‘‘ شامل ہو گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل بھی اس انتظام کی پابندی کرے گا۔

البتہ ٹرمپ نے اس مبینہ سفارتی پیش رفت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ ایران اور مذاکرات میں شامل دیگر ممالک نے بھی فوری طور پر ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس سے قبل امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ واشنگٹن ایران میں بڑے پیمانے پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان خبروں کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے اہم تنصیبات پر جوابی حملوں کی دھمکی دی تھی۔

ٹرمپ کے بیان سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازعے میں کسی نئی فوجی کشیدگی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گی۔

انہوں نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ٹیلیگرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اگر کوئی نیا حملہ ہوا تو امریکہ، اسرائیل اور اس میں شریک تمام خلیجی ممالک اس کے مکمل ذمہ دار ہوں گے۔

فروری کے اوآخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران متعدد بار امریکی حملوں کے جواب میں ان خلیجی ممالک میں حملے کر چکا ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور سعودی عرب بھی کئی مرتبہ ان حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مجوزہ نئے حملوں کی خبروں پر اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے لیے ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔

عباس عراقچی نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر حالیہ عرصے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کے کردار میں بھی سامنے آئے تھے۔ عراقچی نے دونوں رہنماؤں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات