جموں وکشمیر میں سرینگرجموں ہائی وے کی بارباربندش سے پھلوں کے کاشتکار پریشان

اتوار 9 اگست 2026 14:43

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اگست2026ء) بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں سرینگر جموں ہائی وے کی بار بار بندش سے پھلوں کے کاشتکار پریشان ہیں کیونکہ موسم کی خرابی کے باعث سڑک کی بندش کے ساتھ ساتھ اکثر فوجی قافلوں اور امرناتھ یاتریوں کے لئے سڑک کو سویلین ٹریفک کے لئے بند کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مقامی پھلوں سے لدے ٹرک کئی کئی دنوں تک پھنس کر رہ جاتے ہیں ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیب کی صنعت جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور بھارت میں سیب کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 75 فیصدحصہ اسی کا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ناشپاتی، سیب اورآلوبخارے کی ابتدائی اقسام کو لے جانے والے 100سے120 ٹرک وادی کشمیر سے روزانہ نکل رہے ہیں اور ہائی وے پر پھنس جانے سے پیداوار کو بھاری نقصان کا خطرہ ہے۔

(جاری ہے)

کشمیر ویلی فروٹ گروورز وڈیلرز یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر نے کہا کہ حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ سڑک کھلی رہے تاکہ پھلوں سے لدے ٹرک پھنس نہ جائیں۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی ہائی وے کھولی جاتی ہے تو امرناتھ یاترا کے نام پر بھارتی فوج کے قافلوں اور غیر مقامی ٹریفک کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ کشمیری پھلوں کے ٹرک پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ چھ سال کے دوران یہی طرز عمل اپنایا ہے جس سے پھلوں کی مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کاشتکاروں کی تنظیم نے کہا کہ سڑک کی دیکھ بھال اور یاتریوں کے نام پر پابندیوں کے باعث یک طرفہ ٹریفک سے تازہ پیداوار کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے۔