اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ‘بنیادی تنخواہ15لاکھ50ہزار مقرر

دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے نئی سہولت ، ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 13 اگست 2026 13:24

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ‘بنیادی تنخواہ15لاکھ50ہزار ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 اگست ۔2026 ) اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ کردیا گیا وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ ججوں کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئیں، ہائیکورٹ ججوں کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے.

(جاری ہے)

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور الاو¿نسز میں اضافے کا اطلاق 10 دسمبر2025 سے کردیا گیا، گزشتہ مدت کا مالی فائدہ بھی سپریم کورٹ ججوں کو دیا جائے گا، اضافے کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کردی گئی، سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی، سپریم کورٹ ججوں کی بنیادی تنخواہ 11 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کردی گئی.

سپریم کورٹ ججز کے جوڈیشل الاﺅنس میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا، جوڈیشل الاﺅنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے مقرر کردیا گیا جوڈیشل الاﺅنس میں تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوگیا. سپریم کورٹ ججوں کے پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں کردی گئیں، پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد بڑھا کر 75 سال کردی گئی، متعلقہ شق میں 85 سال کی حد بھی بڑھا کر 90 سال کردی گئی، سپریم کورٹ ججوں کیلئے ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے میڈیکل الاو¿نس بھی مقرر کردیا گیا.

ہائیکورٹ ججوں کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، ہائیکورٹ ججوں کی نئی تنخواہوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کردیا گیا، ہائیکورٹ کے دیگرججوں کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہوگی ہائیکورٹ ججوںکی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار سے بڑھا کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے کی گئی، ہائیکورٹ ججوں کی بنیادی تنخواہ میں 1 لاکھ 10 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کردیا گیا. دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے نئی سہولت متعارف کرادی گئی، ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی، ریٹائرڈ ججوں کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی مل سکے گی.