پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریز کی طلب 2030 تک 40 تا 51 گیگا واٹ گھنٹہ تک بڑھنے کی توقع

پیر 17 اگست 2026 13:46

پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریز کی طلب 2030 تک 40 تا 51 گیگا واٹ گھنٹہ تک ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریز کی طلب 2030 تک 40تا 51 گیگا واٹ گھنٹہ تک بڑھنے کی توقع ہے ۔ سی پیک کے سینٹر آف ایکسی لینس اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ریسرچ ایسوسی ایٹ سپناوی کھیمانی نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں لیتھم آئن بیٹریوں کی طلب 5 تا 6 گیگاواٹ /گھنٹہ ہے جبکہ 2030 تک طلب 40 تا 51 گیگاواٹ/گھنٹہ تک بڑھنے کی توقع ہے جس سے لیتھم آئن بیٹریز کے کاروبار کا حجم 6.5 ارب ڈالر تک 9 ارب ڈالر تک بڑھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بیٹریز کی تیاری میں استعمال ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ سیلز اور دیگر سامان درآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کمرشل بنیادوں پر مینوفیکچرنگ ، بیٹری ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر اور ری سائیکلنگ ایکو سسٹم کی سہولیات کا فقدان ہے اور اگر بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے میٹریلیئز کی درآمدات کا رجحان برقرار رہا تو درآمدی بل میں رواں دہائی کے اختتام تک سالانہ 2 تا 3.15 ارب ڈالر اضافہ ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ صرف انرجی سیکٹر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ صنعتی پالیسی کا بھی مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیتھم آئن بیٹریز کی تیاری کے حوالہ سے جامع صنعتی پالیسی مرتب کر کے تجارت، روزگار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور طویل المدتی مسابقتی مواقع بڑھائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں، متبادل توانائی کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور بیک اپ پاور کی طلب میں آئے روز اضافہ کا رجحان ہے جس کے تناظر میں جامع پالیسی سازی ضروری ہے تاکہ کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدات میں کمی کے ذریعہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔\395