نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونا اچھی بات، اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا‘مباحثہ
پیر 17 اگست 2026 20:54
(جاری ہے)
کوئی بھی جماعت اختیارات کو نیچے منتقل نہیں کرنا چاہتی، بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہاکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے۔آبادی کے لحاظ سے نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں،نئے انتظامی یونٹس بننے سے براہ راست عوام کو فائدہ ہوگا۔فواد چوہدری نے کہاکہ پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے ساتھ لوکل گورنمنٹ اور ڈیولوشن کے نظام پر بھی عملدرآمد ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی سیٹ اپ اور گورننس اسٹرکچر میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔فواد چوہدری نے کہاکہ نئے صوبوں کا قیام صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں، اصل مسئلہ گورننس کا ہے،موثر گورننس کے بغیر نئے صوبوں کے قیام سے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوں گے۔وفاقی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ انتظامی یونٹس کی تشکیل زبان، نسل یا کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ قومی مفاد اور عوامی سہولت کی بنیاد پر کیا جائے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پورے پاکستان میں انتظامی یونٹس کے لیے واضح اور یکساں معیار مقرر کیا جائے، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے قومی سطح پر واضح پالیسی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ انتظامی اصلاحات میں مالی اختیارات کی منتقلی یقینی بنانا ہوگی۔ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری موثر نظامِ حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ عوامی سہولت کے لیے انتظامی اختیارات کے ساتھ مالی اختیارات بھی منتقل کیے جائیں۔ نئے انتظامی یونٹس کے لیے یکساں معیار اور شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ بڑے صوبوں اور عوام کے درمیان انتظامی فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے۔صوبوں کی تقسیم کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانا بھی ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 148 میں لوکل گورنمنٹ کے اختیارات مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات آئین میں واضح کیے جائیں۔ لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ اور مثر اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔صوبائی اسمبلیوں کے اختیار سے آگے بڑھ کر لوکل گورنمنٹ کو مضبوط آئینی تحفظ دیا جائے۔سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ کو مالی وسائل کی فراہمی کے لیے موثر مالیاتی نظام ضروری ہے۔ صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم کرنا موثر حکمرانی کے لیے ضروری ہے،نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ بھی ضروری ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منتخب پارلیمنٹرینز کی ذمہ داری ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مثر فیصلے کریں۔سینئر صحافی ہارون الرشید نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلہ کریں۔ انتظامی یونٹس کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ہارون الرشید نے کہاکہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آنا چاہیے،قومی اسمبلی اور سینیٹ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے میں اہم کردار ادا کریں۔مزید قومی خبریں
-
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمشو بی بی عرف عائشہ کے قتل کے حوالے اہم پیشرفت سامنے آگئی
-
سود خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ہفتے میں 25 ملزمان گرفتار
-
کراچی؛ سوتیلی بیٹی سے زیادتی کا الزام، ملزم گرفتار
-
پشاور، مرغیوں پرجوا کرنے میں 5ملزمان گرفتار
-
طلال چوہدری کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، حکومت کسی سیاسی جماعت کے سیاسی موقف یا احتجاج کے حق سے انکار نہیں کرتی ، وزیر مملکت برائے داخلہ
-
گورنر فیصل کریم کنڈی سے خیبرپختونخوا کے مائیکرو بائیولوجسٹس، بائیوٹیکنالوجسٹس اور بائیو کیمسٹس کے وفد کی ملاقات
-
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی (کل )اہم پریس کانفرنس کریں گے
-
وزیراعلیٰ مریم نواز کا سینئر صحافی قاضی ندیم اقبال کے انتقال پر اظہار افسوس
-
کابینہ کمیٹی برائے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کا پہلا اجلاس
-
مطالبات کی منظوری تک سڑکوں سے نہیں اٹھیں گے، حافظ نعیم الرحمن
-
خواجہ سلمان رفیق سے تحریکِ نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی ملاقات
-
اپوزیشن کی سیاست ختم ہوچکی ہے اور اب ملاقاتوں کے حوالے سے ہمدردی کارڈ کھیل رہی ہے ،طلال چوہدری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.