Live Updates

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاعی نظام کی جانب تاریخی پیش رفت ہے، سردار مسعود خان

مکہ معاہدے کی نیٹو سے کوئی مماثلت نہیں، نیٹو کو وسیع وسائل اور جوہری صلاحیتیں حاصل ہیں جبکہ مکہ معاہدہ ابتدائی مرحلے میں ہے

منگل 18 اگست 2026 22:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے دیرینہ اجتماعی دفاعی نظام کے قیام کی خواہش کو عملی شکل دینے اور علاقائی دفاعی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

آذربائیجانی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ مسلم ممالک گزشتہ کئی دہائیوں سے اجتماعی دفاعی نظام کے قیام کے خواہاں رہے ہیں، تاہم اس خواہش کو عملی انتظام میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دوحہ میں فلسطینی مذاکرات کاروں پر اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہوا اور مؤثر دفاعی نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد رواں سال ترکیہ کی شمولیت سے اس دفاعی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ ان کے مطابق مصر نے بھی اس معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کو موجودہ علاقائی طاقت کے توازن میں خلل ڈالنے یا کسی مخصوص ملک کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی نوعیت کا ہے اور اجتماعی دفاعی نظام کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو کسی بھی جارحیت سے محفوظ بنانا ہے۔نیٹو سے تقابل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو کے 32 رکن ممالک ہیں اور اسے وسیع وسائل، مالی معاونت اور جوہری صلاحیتیں حاصل ہیں، جبکہ مکہ معاہدہ اس وقت ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے تین رکن ممالک ہیں۔

تاہم، تینوں ممالک کے پاس نمایاں دفاعی پیداواری صلاحیتیں اور مضبوط اقتصادی تعاون موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے برعکس مکہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام ہے اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے تشکیل نہیں دیا گیا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران، امریکہ یا اسرائیل سمیت کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور امریکہ نے بھی اس کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدہ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ تین میں سے کسی ایک رکن کے خلاف جارحیت کو اجتماعی طور پر دیکھا جائے گا، جس سے علاقائی دفاعی بازداریت مزید مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور لبنان میں جاری عدم استحکام کے علاوہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق غیر حل شدہ بحرانوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

ان حالات نے علاقائی سلامتی اور بحری استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ مستقبل میں مصر، قطر، کویت اور بحرین سمیت دیگر ممالک بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے نظام کو مزید وسیع جغرافیائی رسائی حاصل ہوگی۔انہوں نے تاہم واضح کیا کہ معاہدے کے فریق ممالک کسی نئی اسلحہ دوڑ کے خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد دفاعی بازداریت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، جنگوں کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیاسی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات