مکہ معاہدہ اجتماعی دفاعی نظام کی جانب تاریخی پیش رفت ہے، سردار مسعود خان
مکہ معاہدے کی نیٹو سے کوئی مماثلت نہیں، نیٹو کو وسیع وسائل اور جوہری صلاحیتیں حاصل ہیں جبکہ مکہ معاہدہ ابتدائی مرحلے میں ہے
منگل 18 اگست 2026 22:54
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دوحہ میں فلسطینی مذاکرات کاروں پر اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہوا اور مؤثر دفاعی نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد رواں سال ترکیہ کی شمولیت سے اس دفاعی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ ان کے مطابق مصر نے بھی اس معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کو موجودہ علاقائی طاقت کے توازن میں خلل ڈالنے یا کسی مخصوص ملک کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی نوعیت کا ہے اور اجتماعی دفاعی نظام کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو کسی بھی جارحیت سے محفوظ بنانا ہے۔نیٹو سے تقابل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو کے 32 رکن ممالک ہیں اور اسے وسیع وسائل، مالی معاونت اور جوہری صلاحیتیں حاصل ہیں، جبکہ مکہ معاہدہ اس وقت ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے تین رکن ممالک ہیں۔ تاہم، تینوں ممالک کے پاس نمایاں دفاعی پیداواری صلاحیتیں اور مضبوط اقتصادی تعاون موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے برعکس مکہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک دفاعی نظام ہے اور جارحانہ کارروائیوں کے لیے تشکیل نہیں دیا گیا۔سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران، امریکہ یا اسرائیل سمیت کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور امریکہ نے بھی اس کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ تین میں سے کسی ایک رکن کے خلاف جارحیت کو اجتماعی طور پر دیکھا جائے گا، جس سے علاقائی دفاعی بازداریت مزید مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور لبنان میں جاری عدم استحکام کے علاوہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق غیر حل شدہ بحرانوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ان حالات نے علاقائی سلامتی اور بحری استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ مستقبل میں مصر، قطر، کویت اور بحرین سمیت دیگر ممالک بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے نظام کو مزید وسیع جغرافیائی رسائی حاصل ہوگی۔انہوں نے تاہم واضح کیا کہ معاہدے کے فریق ممالک کسی نئی اسلحہ دوڑ کے خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق بنیادی مقصد دفاعی بازداریت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، جنگوں کی روک تھام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیاسی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔مزید قومی خبریں
-
کینیڈا بھجوانے کے نام پر 60 لاکھ روپے ہتھیانے والا انسانی اسمگلر گرفتار
-
عمران خان کی ہسپتال منتقلی، پی ٹی آئی کی کارکنان سے ہسپتال کے باہر جمع نہ ہونی کی اپیل
-
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح کردیا
-
ایف آئی اے فیصل آباد نے ویزہ فراڈ میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا
-
پاکستان میں پہلی بار سمندر کے کنارے اعلیٰ معیار کی گیس دریافت ہوگئی
-
حکومت نے آئی پی پیز سے ناجائز معاہدے کیی: حافظ نعیم الرحمن
-
پاکستانی طلبہ کو زیادہ مشکلات وسطی ایشیائی ممالک سے درپیش ہیں،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
-
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے فیصل زاہد ملک کی ملاقات، تمغۂ امتیاز پر مبارکباد
-
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز چوہدری محمد سلیم کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار افسوس
-
پسند کی شادی کرنا جرم بن گیا، گلشن حدید میں فائرنگ سے خاتون جاں بحق، شوہر سمیت 2 افراد شدید زخمی
-
لاہور میں مختلف واقعات، خاتون سمیت پانچ افراد جاں بحق
-
پٹرول کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کرسکتے ہیں‘ حافظ نعیم الرحمن
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.