سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنا توہینِ عدالت ہے، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، حلیم عادل شیخ

عمران خان کو ذاتی معالج سے ملنے اور میڈیکل بورڈ کے معائنے سے محروم رکھا گیا، عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے، صدر پی ٹی آئی سندھ کی انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس

جمعہ 21 اگست 2026 20:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد نہ کرنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، عمران خان کو عدالتی حکم کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت مقررہ طبی ماہرین کو علاج کے عمل میں شامل کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم انہیں پمز منتقل کیا گیا، ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے بھی تاحال واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاج، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کو علاج کے عمل میں شامل رکھنے سے متعلق واضح ہدایات دی تھیں۔ حکومت کو عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہوگا، اسے خود عدالت بن کر فیصلے سنانے کا اختیار نہیں۔حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو گزشتہ کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر قائدین جیلوں میں نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی این آر او یا ڈیل کے خواہش مند نہیں، ان کا مطالبہ صرف انصاف، آئینی حقوق اور علاج کی سہولت ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی اور عمران خان کی رہائی و عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

پی ٹی آئی کراچی ڈویڑن کے صدر فہیم خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں عمران خان کی رہائی نہیں بلکہ ان کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے خلاف احتجاج کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے کارکن پارٹی کی ہر کال پر پرامن جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔

پی ٹی آئی کراچی ڈویڑن کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے اور حکمرانوں کو عدالتی احکامات کی بھی پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات پر قوم گہری تشویش کا شکار ہے۔انصاف لائرز فورم سندھ کے جنرل سیکریٹری بیریسٹر علی طاہر نے کہا کہ عدالتی حکم میں مخصوص اسپتال میں علاج اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی ہدایت موجود ہے، اس لیے متعلقہ حکام کے لیے اس پر عمل درآمد لازم ہے۔

عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل نہ کرنا اور میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینا عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کو علاج کے عمل میں شامل رکھنے کی ہدایت کی تھی، مگر ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالتی حکم میں 16 ستمبر کو علاج سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کو علاج میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور عمران خان کو علاج معالجے کا بنیادی حق حاصل ہے۔انصاف لائرز فورم کراچی کے صدر ایڈووکیٹ شجاعت علی خان نے کہا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کیے جانے پر وکلا برادری میں تشویش ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیر کے روز سندھ بھر میں وکلا احتجاج کریں گے اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا ازخود نوٹس لے کر عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنما، انصاف لائرز فورم کے عہدیداران اور کارکنان بھی موجود تھے۔