زلفی بخاری کہتے کہ عمران خان رہائی کے بعد کوئی محاذ آرائی نہیں کرینگے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ پیار کی پینگیں بڑھانا ہی نہیں چاہتی

عمران خان نے خود لڑائی مول لی ہے، کیا ضرورت تھی، وزیراعظم بھی نہیں اور کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی نہیں ہونے دوں گا۔ منیب فاروق

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 21 اگست 2026 22:10

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 21 اگست 2026ء ) تجزیہ کار صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ (زلفی بخاری) کہتے کہ عمران خان رہائی کے بعد کوئی محاذ آرائی نہیں کرینگے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ پیار کی پینگیں بڑھانا ہی نہیں چاہتی ۔ ویڈیو ولاگ میں انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کہتے ہیں کہ عمران خان رہائی کے بعد آرمی چیف کیخلاف کوئی محاذ آرائی نہیں کرینگے لیکن مسلئہ یہ ہے کہ آج کی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی، مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانا ہی نہیں چاہتی۔

عمران خان نے خود اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی مول لی، میں نے کہا تھا کہ آپ مت لڑیں ، مقبول ترین آدمی ہیں، اپنا الیکشن لڑیں اور واپس آئیں، اور اپنی سیاست کریں۔

(جاری ہے)

آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی آپ وزیراعظم بھی نہیں ہیں اور پنگے لے رہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی نہیں ہونے دوں گا؟ اب نتیجہ دیکھ لیں۔میں خبر دی تھی فیض حمید کا کورٹ مارشل ہوگا اب آپ خود دیکھ لیں۔ یاد رہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو اگر رہا کردیا جاتا ہے تو وہ فوج یا آرمی چیف سے محاذآرائی نہیں کریں گے، بانی کی رہائی سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی ہوسکتی ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کی صورت میں وہ فوج یا آرمی چیف عاصم منیر سے محاذ آرائی نہیں کریں گے۔ عمران خان کے ایک قریبی ساتھی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ قانونی پیش رفت کے بعد فیلڈمارشل عاصم منیر مصالحت کے لیے شفایابی کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں۔ یہ بیان پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان بیانات سے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیانیے میں ایک اہم تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں۔ رائٹرز کو ایک انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے قریبی ساتھی اور پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے اب تک کے مضبوط ترین اشاروں میں سے ایک دیا کہ پارٹی فوج کے ساتھ مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ خود عمران خان بھی ایسی مفاہمت کے خواہاں ہیں یا نہیں۔ ذوالفقار بخاری نے کہا کہ اگر فرض کریں عمران خان کو کل رہا کر دیا جائے تو وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔