امریکا میں گجراتی تاجر سمیت دو بھارتی شہریوں کو گولی مارکر ہلاک کردیاگیا

پیر 24 اگست 2026 14:17

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر جیکسن میں 62 سالہ گجراتی تاجر کو اس کی دکان کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، واقعے کے وقت اس کی 19 سالہ بیٹی بھی وہاں موجود تھی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقتول کی شناخت گجرات کے ضلع مہسانہ کے علاقے آکھاج کے رہائشی سریش پرشوتم داس پٹیل کے طور پر ہوئی ، وہ تقریباً 30 سال سے امریکا میں مقیم تھا اور واقعے سے صرف ایک ہفتہ قبل جیکسن شہر میں نیا کاروبار شروع کیا ۔

علاقے کے رہائشی دنیش سوتھر نے بتایا کہ 20 اگست 2026 کی رات ایک نقاب پوش حملہ آور دکان میں داخل ہوا جس نے پہلے کیش دراز سے ڈالر چرائے اور پھر سریش پٹیل کو گولی مار دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ سوتھر نے کہاکہ اس پورے خوفناک واقعے کے دوران اس کی 19 سالہ بیٹی قریب ہی کھڑی تھی۔

(جاری ہے)

اس واقعے نے گائوں کے لوگوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ،امریکا میں بھارتی شہریوں کے خلاف ایسے جرائم کی خبروں کے باعث خوف اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک اور واقعے میں نیویارک میں پیزا کی ڈیلیوری کے دوران پنجاب کے ضلع کپورتھلہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ حالیہ ہلاکتوں سے بیرونِ ملک بالخصوص امریکا اوردیگر مغربی ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر 2014 میں بھارت میں ہندوتوا نظریے کی حامل جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سامنے آئی ہے جس سے نئی دہلی کی تقسیم پیدا کرنے والی داخلی سیاست کے بھارتی تارکینِ وطن پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں بی جے پی کی جانب سے ہندوتوا نظریے کے فروغ نے بیرونِ ملک بھی ہندوتوا کے جارحانہ طرزِ عمل کو تقویت دی ہے جس سے بھارتی تارکینِ وطن میں تقسیم پیدا ہوئی اور میزبان ممالک میں ردعمل کو ہوا ملی۔یورپ میں ایک کمیونٹی رہنما نے کہاکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں، اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور بیرونِ ملک ہندوتوا بیانیے کے پھیلائو کے خلاف احتجاج کے دوران بھارتی سفارتی مشنز، مندروں اور افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ہندو مندروں میں توڑ پھوڑ، ریلیوں کے دوران جھڑپوں اور بھارتی طلبہ و پیشہ ور افراد کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کئی حکومتوں نے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سفارتی عمارتوں کے غلط استعمال اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بیرونِ ملک منتقل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے ملک میں نفرت انگیز تقاریر اور اکثریتی سیاست سے مو ثر طور پر نمٹنے میں ناکامی نے انتہا پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور بیرونِ ملک بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔