حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت پر دبا ئوکا باعث ہیں ‘ پیاف

جمعرات 27 اگست 2026 22:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اگست2026ء) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری ،چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مالیاتی خسارے کا جی ڈی پی کے 2.6فیصد تک آنا حوصلہ افزا ء ہے تاہم محض ایک سال کے بہتر اعدادوشمار کو معاشی مسائل کے مستقل حل سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا،صوبائی حکومتوں کے سرپلس، قرضوں کی سروسنگ میں کمی اور دیگر وقتی عوامل نے مالیاتی صورتحال بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے لیکن محصولات کی بنیاد مضبوط بنانا اب بھی اہم چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور ٹیکس وصولیوں کے اہداف حقیقت پسندانہ بنیادوں پر حاصل کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

(جاری ہے)

حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت پر دبا ئوکا باعث ہیں جبکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے وسائل کا بڑا حصہ مختص ہونے سے ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے مالی گنجائش محدود ہوجاتی ہے۔پیاف کے رہنمائوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ بلند قرضہ جاتی ضروریات نجی شعبے کیلئے دستیاب مالی وسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع کو متاثر کررہی ہیں۔

شرح سود میں کمی کیلئے مالیاتی نظم و ضبط بنیادی شرط ہے کیونکہ بلند شرح سود کاروباری لاگت بڑھانے کے ساتھ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔حکومت کو تجویز ہے کہ ٹیکس نیٹ میں نئے شعبوں اور افراد کو شامل کرنے کے ساتھ موجودہ ٹیکس دہندگان پر غیرضروری بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔سرکاری اخراجات میں غیرضروری اضافے کو روکنے، ترقیاتی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری مثبت پیشرفت ہے تاہم عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کیلئے معاشی اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔بہتر ریٹنگ اور کم خطرہ پریمیم حاصل کرنے کیلئے حکومت کو قرضوں، مالی خسارے اور بیرونی مالیاتی ضروریات کو بتدریج کم کرنے کی جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔