جہازوں کی تعداد میں اضافہ پاکستان کی تجارتی خودمختاری اور توانائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے،میاں زاہد حسین

جمعرات 27 اگست 2026 18:57

جہازوں کی تعداد میں اضافہ پاکستان کی تجارتی خودمختاری اور توانائی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اگست2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کی تعداد بڑھانے اور انہیں ماڈرنائز کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی تجارتی خودمختاری، توانائی سلامتی اور زرمبادلہ کے تحفظ کے لیے بروقت پیش رفت ہے۔

میاں زاہد حسین نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے اضافی جہازوں کی خریداری، لیزنگ اور ادارے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایات دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے درست طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ غیر ملکی شپنگ کمپنیوں پر حد سے زیادہ انحصار کر کے حقیقی اقتصادی خودمختاری حاصل نہیں کی جاسکتی۔

میاں زاہد حسین نے خلیجی خطے میں امن، اسٹریٹجک استحکام اور پاکستان کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے فعال کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کم کرنے، خلیجی ممالک کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بحال رکھنے کی کوششیں پاکستان کی توانائی سلامتی اور برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پی این ایس سی جنوری اور فروری 2026 میں ایم ٹی کراچی، ایم ٹی لاہور اور ایم ٹی کوئٹہ نامی تین جدید آئل ٹینکر اپنے جہازوں میں شامل کر چکی ہے، جن کی مجموعی خریداری لاگت تقریباً 193.15 ملین ڈالر ہے۔ ان جہازوں سے 272,039 ڈیڈ ویٹ ٹن کا اضافہ ہوا اس طرح پی این ایس سی کے زیرانتظام جہازوں کی تعداد 10 سے بڑھ کر مجموعی طور پر 13 ہوگئی ہے، جن میں آٹھ ٹینکر اور پانچ بلک کیریئر شامل ہیں۔

اس کپیسٹی سے پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل زیادہ قابل اعتماد اور غیر ملکی جہازوں کی spot chartering پر انحصار کم ہوگا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق پی این ایس سی کو 2027 کے آخر تک اپنے جہازوں کی تعداد 13 سے بڑھا کر 30 کرنی ہے جس میں سے 1,100 سے 2,000 ٹی ای یو گنجائش کے تین سے پانچ فیڈر کنٹینر جہاز 2026 کے آخر تک شامل کرنے ہیں جس سے 2026 کے آخر تک پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد 13 سے بڑھ کر 18 ہو جائے گی جو خلیجی ممالک، ریڈ سی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔

یہ پانچ جہاز فی سفر مجموعی طور پر 3,300 سے 10,000 ٹی ای یو گنجائش فراہم کرسکتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں 24.75 ملین ڈالر کی لاگت سے زیرتعمیر 1,100 ٹی ای یو کنٹینر جہاز کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ اس منصوبے سے مقامی جہاز سازی اور میرین انجینئرنگ کی صنعت کو فروغ ملے گا، لیکن دسمبر 2027 تک تعمیراتی مراحل کے باعث فوری ضرورت کے لیے چارٹرڈ جہاز درکار ہوسکتے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ جنوری تا جولائی 2026 پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات 2.1 فیصد اضافے سے 1.944 ارب ڈالر رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کا حصہ 65.9 فیصد تھا۔ فجیرہ، خورفکان اور دیگر علاقائی مراکز کے ساتھ قابل اعتماد پاکستانی فیڈر کنٹینرز غذائی اشیائ ، ٹیکسٹائل، چاول، آلات جراحی، کھیلوں اور انجینئرنگ مصنوعات کے برآمدکنندگان کو فریٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مبینہ طور پر غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 4.6 ارب ڈالر فریٹ ادا کرتا ہے۔ اس کارگو کا معمولی حصہ بھی پاکستانی ملکیتی جہازوں کو منتقل ہونے سے زرمبادلہ کی بچت اور برآمدکنندگان کی بارگیننگ پاور بڑھے گی۔میاں زاہد حسین نے مطالبہ کیا کہ جہازوں کی خریداری مکمل شفافیت، مسابقتی فنانسنگ اور تجارتی بنیادوں پر کی جائے۔

یقینی دوطرفہ کارگو، مقررہ ہفتہ وار شیڈول، ریفریجریٹڈ کنٹینرز، بین الاقوامی مین لائن کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں اور تیز رفتار پورٹ کلیئرنس کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض جہازوں کی تعداد بڑھانے سے برآمدات نہیں بڑھیں گی، برامدات کو بڑھانے کے لیے پیشہ ورانہ انتظام، تجارتی نظم و ضبط، جدید بندرگاہیں اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر روابط ناگزیر ہیں۔