شاہرگ میں خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنیوالا واقعہ افسوسناک ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

واقعے میں ملوث مسلح افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ،اغوا 4کمسن بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، مطالبہ

جمعرات 27 اگست 2026 21:15

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اگست2026ء) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث مسلح افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اغوا کیے گئے چار کمسن بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شاہرگ کے کلی فیض آباد کے رہائشی اپنے گھروں کے لیے ایندھن اور لکڑیاں لانے کی غرض سے خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں گئے تھے کہ وہاں مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں عبدالخالق موقع پر شہید جبکہ ان کے ساتھی عیسی گل شدید زخمی ہوگئے۔ مسلح افراد چار کمسن بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، جن کی عمریں تقریبا 13، 15 اور 16 سال بتائی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واقعے کو سنگین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، تاہم صوبے کے مختلف علاقوں میں انہیں دہشت گردی، اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح حملوں کا سامنا ہے۔ پارٹی کے مطابق عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں عام شہری خود کو غیر محفوظ سمجھنے پر مجبور ہیں۔

پارٹی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پشتونخوا وطن کے مختلف علاقوں، بالخصوص ہنہ اوڑک، زیارت، سرانان، قلعہ عبداللہ، پشین اور ہرنائی میں مسلسل پرتشدد واقعات نے عوام میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ پیدا کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہنہ اوڑک میں مسلح حملے کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور متعدد افراد کے لاپتہ یا اغوا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس اہلکاروں پر حملے میں متعدد اہلکار شہید ہوئے۔

پارٹی نے مزید کہا کہ سرانان جیسے اہم اور گنجان آباد علاقے میں پولیس تھانے پر مسلح حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانا امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ سرانان کوئٹہ، چمن اور پشین کے درمیان اہم شاہراہ پر واقع ہونے کے باوجود اس نوعیت کے واقعات حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔بیان کے مطابق قلعہ عبداللہ میں بھی حالیہ دنوں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، پولیس چوکی پر دستی بم حملے اور دیگر پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ عوامی احتجاج اور شاہراہوں کی بندش کے واقعات بھی شہریوں کے اضطراب کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ مزدور، کسان، طلبہ، عام شہری، پولیس اہلکار اور دیگر محنت کش طبقات مسلسل دہشت گردی اور بدامنی کا شکار ہورہے ہیں۔ حالیہ دنوں سرانان کے علاقے میں تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدامنی کا دائرہ عام شہریوں اور محنت کشوں تک پھیل رہا ہے۔پارٹی نے حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ شاہرگ کے خلیفٹ پہاڑ کے دامن میں پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، عبدالخالق کے قتل کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، زخمی عیسی گل کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اغوا کیے گئے چاروں بچوں کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔