بھارتی کمپنی کے ہاتھوں 70 ملین یورو کا دفاعی معاہدہ تنازع کا شکار، اسٹونیا کے وزیردفاع مستعفی

وزیردفاع ہانو پیوکر نے مالی بےضابطگیوں کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، اسکینڈل گولہ بارود کی مسلسل تاخیر کے بعد سامنے آیا، گولے بھی ناقص پائے گئے

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 3 ستمبر 2026 23:48

بھارتی کمپنی کے ہاتھوں 70 ملین یورو کا دفاعی معاہدہ تنازع کا شکار، اسٹونیا ..
ٹالن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 ستمبر 2026ء ) اسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکور نے دفاعی خریداری کے ایک بڑے اسکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے توپ خانے کے گولوں کی خریداری کے لیے ایک بھارتی کمپنی کو 70 ملین یورو کی ادائیگی کی منظوری دی تھی، تاہم بعد میں فراہم کیا جانے والا گولہ بارود ناقص معیار کا نکلا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق ڈیٹاسیل ایس آر ایل (Datasel SRL) نامی کمپنی کو یوکرینی فوج کے لیے توپ خانے کے گولے تیار کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا تاکہ انہیں روس کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی نے اس سے قبل کبھی ایک بھی توپ کا گولہ تیار یا فروخت نہیں کیا تھا۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق اسٹونیا نے اگست 2024ء میں یورپی یونین کے فوجی فنڈ سے رقم ادا کی تھی اور منصوبہ یہ تھا کہ نومبر 2024ء تک گولہ بارود یوکرین کے محاذ پر پہنچا دیا جائے۔

تاہم بھارتی انتظامیہ کے تحت اٹلی میں قائم کمپنی نے گولہ بارود کی فراہمی میں بار بار تاخیر کی۔ بالآخر 2025ء میں جب ایک کھیپ کا معائنہ کیا گیا تو گولے ناقص پائے گئے اور ان میں سے کوئی بھی یوکرین نہیں بھیجا گیا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق یہ اسکینڈل اسٹونیا کے لیے باعثِ شرمندگی بن گیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک نے اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے کیونکہ کسی ممکنہ روسی حملے کی صورت میں اسٹونیا کو نیٹو کی پہلی دفاعی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسٹونیا کے سرکاری نشریاتی ادارے ای آر آر (ERR) کے مطابق ہانو پیوکور نے بدھ کے روز ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک رہنما میں ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ اور ظرف ہونا چاہیے، چاہے معاملے میں اس کی ذاتی غلطی نہ بھی ہو۔
ہانو پیوکور نے کہا، ’’وزیر دفاع کی حیثیت سے مجھے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ میری وزارت کے تحت آنے والے پورے شعبے کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔

ایک رہنما میں سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ اور ظرف ہونا چاہیے، چاہے اس معاملے میں اس کی کوئی ذاتی ذمہ داری نہ ہو۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اب وزیراعظم کو نیا وزیر دفاع تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
پیوکور کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود متعلقہ معاہدوں کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا تھا، تاہم یہ معاہدے ان کے دفتر کو موصول ہوئے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے معاہدے کیوں نہیں پڑھے تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع اس نوعیت کی تفصیلات سے نمٹنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق، ’’وزیر دفاع معاہدوں پر مذاکرات نہیں کرتا، نہ ہی وزیر دفاع جرابیں اور گولہ بارود گنتا ہے۔ وزیر دفاع بنیادی فیصلہ کرتا ہے کہ یوکرین کی حمایت کرنی ہے۔ معاہدوں کے مذاکرات کی تیاری اور ٹھیکیداروں کی تلاش آر کے آئی کے (RKIK) کی ذمہ داری ہے۔

‘‘
آر کے آئی کے، یعنی سینٹر فار ڈیفنس انویسٹمنٹس، اسٹونیا میں دفاعی خریداری کا مرکزی ادارہ ہے۔
دوسری جانب ڈیٹاسیل ایس آر ایل نے اسٹونیا کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس نے معاہدے کے تحت زیادہ تر گولہ بارود، جس کی مالیت تقریباً 59 ملین یورو بنتی ہے، فراہم کر دیا تھا اور اگر اسٹونیا معاہدہ ختم نہ کرتا تو کمپنی اپنی باقی ذمہ داریاں بھی پوری کر دیتی۔

ای آر آر کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے وکیل کے ذریعے اسٹونیا کے اخبار ایستی ایکسپریس کو بتایا کہ ’’ان سپلائی معاہدوں کے سلسلے میں نقصان اٹھانے والا فریق ڈیٹاسیل ہے۔‘‘
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ اسٹونین سینٹر فار ڈیفنس انویسٹمنٹس کی جانب سے کیے گئے اقدامات، خصوصاً معاہدوں کو غیر معمولی طور پر ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی وجوہات، ’’متضاد اور غیر منطقی‘‘ ہیں۔