مزارِ قائد پر یومِ دفاع کے موقع پر تبدیلی گارڈز کی تقریب کاانعقاد

پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے 72 ایوی ایشن کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے ملکی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پاک فضائیہ وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،ایئر وائس مارشل حسن فیصل

اتوار 6 ستمبر 2026 17:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 ستمبر2026ء) یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر مزارِ قائد کراچی میں تبدیلیِ گارڈز کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قومی خدمات اور اصول پسند قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے 72 ایوی ایشن کیڈٹس پر مشتمل چاق و چوبند دستے نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔

ایئر آفیسر کمانڈنگ پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان ایئر وائس مارشل حسن فیصل تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور شہدائے وطن کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا سے ہوا۔ مہمانِ خصوصی نے مزارِ قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے قائداعظم محمد علی جناح کے لازوال نظریے، اصول پسند قیادت اور قومی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر ہمیں اس تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے بے مثال جرآت، عزم اور بہادری سے وطن کا دفاع کیا۔ انہوں نے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر معرکہ حق تک پاک فضائیہ نے ملکی سلامتی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہوئے قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ معرکہ حق نظم و ضبط، باہمی تعاون اور بروقت فیصلہ سازی کا مظہر تھا، جس میں تمام عناصر کو مؤثر انداز میں یکجا کرکے پاکستان نے جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے باصلاحیت، پٴْرعزم اور پیشہ ور شاہینوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک جدید فضائی قوت میں ڈھل چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں کے نظام، خلائی و سائبر صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید بنیادی ڈھانچے اور کثیرالجہتی جنگی صلاحیتوں کے امتزاج نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری اور دفاعی استعداد کو مزید مستحکم کیا ہے۔

ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم ہے، تاہم پاک فضائیہ کی اصل طاقت اس کے جانباز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ معیار کی تربیت اور بروقت و درست فیصلہ سازی کی صلاحیت میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ملکی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں اور نظریات کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے وطن کے دفاع کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔