کے الیکٹرک کی مبینہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

نیپرا پہلے ہی درخواست گزار کے حق میں حکم امتناع جاری کرچکی، درخواست قابل سماعت نہیں، کے الیکٹرک کے وکیل

پیر 7 ستمبر 2026 22:25

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کی مبینہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ اور قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق آئینی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔درخواست گزار سیدہ ماریہ رضا نے موقف اختیار کیا کہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی غیر قانونی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

درخواست گزار کا تعلق حاجی لیموں گوٹھ، گلشن اقبال بلاک 3 سے ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے سے متصل قائداعظم کالونی اور عظیم گوٹھ کے مکینوں پر کروڑوں روپے کے بجلی کے واجبات واجب الادا ہیں، تاہم کے الیکٹرک کے عملے نے مبینہ طور پر نادہندہ علاقوں کے مکینوں کو بھی حاجی لیموں گوٹھ کے پی ایم ٹی سے بجلی کے کنکشن فراہم کیے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کے مطابق نادہندگان کی جانب سے بجلی کے غیر قانونی کنکشن استعمال کیے جانے کے باعث حاجی لیموں گوٹھ کی کیٹیگری تبدیل کردی گئی، جو کے الیکٹرک ڈسٹری بیوشن رولز 2005 اور نیپرا کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ نیپرا ایکٹ کی دفعہ 40(2) کے تحت کے الیکٹرک پر سخت اور روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ عائد کیا جائے، جبکہ کمپنی کو بلاجواز، امتیازی اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ سے فوری طور پر روکا جائے۔

درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک حکام عدالتی اور ریگولیٹری احکامات پر عمل درآمد سے بھی انکاری ہیں۔دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نیپرا پہلے ہی درخواست گزار کے حق میں حکم امتناع جاری کرچکی ہے، اس لیے موجودہ درخواست قابل سماعت نہیں۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔