ورلڈ مسلم کانگریس کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں حقِ خود ارادیت کوعلیحدہ ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کرنے کا مطالبہ

جمعرات 10 ستمبر 2026 11:51

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2026ء) ورلڈ مسلم کانگریس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے حقِ خود ارادیت سے متعلق علیحدہ ایجنڈا آئٹم کی تجویز کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے، تاکہ غیر ملکی قبضے کا شکار عوام، بالخصوص بھارت کے غیر قانونی زیرِتسلط جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مسائل اور خدشات عالمی فورم پر پیش کرنے کے لیے مستقل اور باضابطہ پلیٹ فارم میسر آ سکے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام کے فروغ سے متعلق آزاد ماہر کے ساتھ مباحثے کے دوران ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے آزاد ماہر کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں یک طرفہ طرزِ عمل، جبری اقتصادی پالیسیوں اور باہمی انحصار کو سیاسی دباو ¿ کے لیے استعمال کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات کی درست نشاندہی کی گئی ہے۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات ریاستوں کی خودمختار مساوات اور اقوام متحدہ کے منشور میں درج بنیادی اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔الطاف حسین وانی نے کہا کہ ابھرتا ہوا کثیر قطبی عالمی نظام کثیرالجہتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام بین الاقوامی قانون، باہمی تعاون اور تمام اقوام کے حقوق کے احترام پر مبنی ہو۔

اس موقع پر الطاف وانی نے اقوام متحدہ کے سابق آزاد ماہر الفریڈ ڈی زایاس کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کو عوام کے حقِ خود ارادیت کو ایک علیحدہ ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کرنے کی تجویز پر دوبارہ غور کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اس تجویز کی بحالی سے غیر ملکی قبضے کے زیرِ تسلط عوام کو انسانی حقوق کونسل کے اندر اپنے مسائل اجاگر کرنے، اپنے خدشات پیش کرنے اور اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق حل طلب معاملات پر عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک مو ¿ثر اور مستقل فورم دستیاب ہوگا۔

انہوں نے خصوصی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے حقِ خود ارادیت کے استعمال سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ان عوام کے حقوق کا کس حد تک تحفظ کرتا ہے جو اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں کے عمل میں مو ¿ثر طور پر شریک نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام اس وقت تک اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتا جب تک وہ عوام کے بنیادی حقِ خود ارادیت کا تحفظ اور غیر ملکی قبضے کے زیرِ تسلط لوگوں کے مسائل کا مو ¿ثر ازالہ یقینی نہیں بناتا۔